رسائی کے لنکس

بلوچستان میں صحت عامہ کے مسائل خصوصاً ہیپاٹائیٹس کے پھیلاؤ میں اضافہ

  • ستار کاکڑ

بلوچستان میں صحت عامہ کے مسائل خصوصاً ہیپاٹائیٹس کے پھیلاؤ میں اضافہ

بلوچستان میں صحت عامہ کے مسائل خصوصاً ہیپاٹائیٹس کے پھیلاؤ میں اضافہ

پاکستان کے شہر یوں میں یر قان یا ہیپاٹائٹس سب سے بڑی بیماری بتائی جاتی ہے لیکن دیگر تین صوبوں کے مقابلے میں بلو چستان میں صورتحال زیادہ خر اب ہے اس صوبے کے 30 سے 18 اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اب تک یہ پتا ہی نہیں ہے کہ کہیں وہ تو یر قان میں مبتلا نہیں ہے۔

صوبائی حکومت کے محکمہ صحت کے تو سط سے بلو چستان کے 12 اضلاع کی لیبارٹریوں سے جمع کیے جانے والے اعدادوشمارکے مطابق ان اضلاع میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مر یضوں کی تعداد30 فیصد سے زیادہ ہے اور ان میں اضافہ ہو تا جارہا ہے ۔

بو لان میڈ یکل کمپلیکس ہسپتال کے اسٹنٹ پر وفیسر شعبہ گیسٹرو کے سر براہ ڈاکٹر شر بت خان مندوخیل کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اگر دن میں سو مر یض آتے ہیں تو اُن میں سے 50 فیصد لوگوں کو جگر کی بیماری یا ہیپاٹائٹس کی بیماری ہو تی ہے۔

وزیراعظم کے پر وگرام برائے ہیپاٹائٹس کنٹرول بلو چستان کے معاون ڈاکٹر ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے کام شر وع کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزارت صحت کی طر ف سے کی جانے والی دو سو سے زائد تحقیقاتی ریسرچ سٹیڈیز کے مطابق پاکستان میں چھ لاکھ ہیپاٹائٹس” بی “اور ساڑھے سات لاکھ” سی “کے مر یض ہیں ہیپاٹائٹس کے مر یضوں کا علاج کر نے والے بلو چستان کے ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ بلو چستان میں ہیپاٹائٹس کے روک تھام کے لیے اگر ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر کام نہیں کیا گیا تو بلو چستان میں اس کی شر ح 50 فیصد سے زیادہ ہو جائے گی ۔

ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے مو جو دہ قوانین پر سختی سے عملدر آمد ، بالخصوص نام نہاد ڈاکٹروں کی پر یکٹس پر پابندی ، ہسپتالوں کے فضلے کو صحیح طر یقے سے ٹھکانے لگانے ، لیبارٹریزمیں پیتھالوجسٹ کی تقرری ، استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعمال کر نے پر پابندی ، ہیپاٹائٹس کے بارے میں لوگو ں میں آگاہی کے لیے کام کر نے کی اشد ضرورت ہے ۔

XS
SM
MD
LG