رسائی کے لنکس

بلوچستان میں صنعت کاروں کی دلچسپی

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بلوچستان کے چار دیگر اضلاع خضدار، پسنی، تربت، مسلم باغ میں انڈسٹریل زون قائم کئے گئے ہیں تاہم یہاں اب تک کوئی کارخانہ نہیں لگایا گیا ہے۔

پاکستان کے جنوب مغرب میں ماضی کی نسبت امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال اورچین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے آغاز سے یہاں ایک بار پھر سرمایہ کاروں نے دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے نواحی علاقے بوستان میں قائم صنعتی زون میں حالیہ ہفتوں میں پانچ سو سے زائد صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں نے صنعتیں لگانے کے لیے حکومت کو درخواستیں جمع کروائی ہیں۔

حکام کے مطابق ان درخواستوں پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق صنعتکاروں کو یہاں جگہ مہیا کرنے کا کام بھی جلد شروع ہو جائے گا۔

چھوٹی صنعتوں کے محکمے کی ڈائریکٹر جنرل سائرہ عطا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ کئی سال پہلے قائم کیے گئے بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ میں سلامتی کی خراب صورتحال کے باعث کام نہیں ہو رہا تھا لیکن اب یہاں دوبارہ سے سرمایہ کاروں نے دلچسپی لینا شروع کی ہے۔

"ابھی ترقیاتی کام ہو رہا ہے، فیز ون اور فیز ٹو میں ہو چکا ہے وہاں پر سیوریج سسٹم اپلائی کیا ہوا ہے، گیس، بجلی اور دیگر ضروریات وہاں موجود ہیں، باقی وہاں جو ہماری جو کچھ جگہ ہے اس پر مقامی لوگوں نے تجازوات کے ساتھ قبضہ کر رکھا ہے تو ہم مقامی انتظامیہ سے بات کر کے اسے واگزار کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہاں بھی صنعتوں کے لیے کام ہو سکے۔۔۔اور اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا جو روٹ استعمال ہوگا اس میں بھی بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ بہت سود مند کردار ادا کرے گا۔"

سائرہ عطا کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں تین انڈسٹریل زونز ہیں جن میں 129 صنعتیں لگائی گئیں لیکن بدامنی کے باعث ان میں سے صرف 51 کام کر رہی ہیں جب کہ دس پر کام بند ہے اور سرمایہ کار یہاں سے جا چکے ہیں اور زیر تعمیر 68 صنعتوں کی تکمیل کا کام بھی مشکلات کے باعث رک چکا ہے۔

کوئٹہ کے علاوہ ڈیرہ مراد جمالی میں 7 چھوٹے کارخانے لگائے گئے تھے جن میں دو بدامنی کے واقعات کے باعث بند ہیں۔

بلوچستان کے چار دیگر اضلاع خضدار، پسنی، تربت، مسلم باغ میں انڈسٹریل زون قائم کئے گئے ہیں تاہم یہاں اب تک کوئی کارخانہ نہیں لگایا گیا ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال صوبے بلوچستان میں 42 قسم کی معدنیات کے بڑ ے بڑے ذخائر موجود ہیں جن میں سونے، تانبے، تیل وگیس کے ذخائر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین زراعت اس صوبے کے شمالی اضلاع کو فروٹ باسکٹ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر سر مایہ کار چیریز، سیب، خوبانی، پستہ اور بادام کے لیے جدید گودام اور کارخانے قائم کریں تو اس سے ملک اور صوبے کی آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ بیروزگاری ختم کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG