رسائی کے لنکس

’ بلوچستان میں قیدی بچوں کے قانون پر عمل نہیں ہو رہا‘


بلوچستان کی جیلوں میں قیدی بچے موجود ہیں

بلوچستان کی جیلوں میں قیدی بچے موجود ہیں

بلوچستان میں کم عمر قیدیوں کے حقوق کے لئے 2000 میں بنائے جانے والے قانون جونائل جسٹس سسٹم میں نو عمر قیدیوں کو جیلو ں کے بجائے بورسٹل انسٹی ٹیوٹ میں رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

غلام مرتضیٰ زہری

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ’ سحر ‘کے چائلڈ رائٹس موومنٹ کے کوآر ڈینیٹر بہرام لہڑی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ منشیات اور چوری کے الزام میں پکڑے جانے والے کم عمر قیدیوں کی بحالی کے لئے صوبے میں قانون کے مطابق کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ۔

ان کے مطابق ’’ بالغ قیدیوں کے ساتھ قیدی بچوں کو رکھنا غیر قانونی ہے۔ اس سے جیلوں میں بھیجے جانے والے بچوں کی اصلاح کا امکان گھٹ جاتا ہے اور اس کی بجائے وہ منشیات اور دیگر جرائم کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ قیدی بچوں کو خطرناک جرائم میں ملوث بالغ قیدیوں کے ہاتھوں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

غیر سرکاری تنظیم’’ سحر ‘‘نے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے برے صوبے میں قیدیوں کے بارے میں جو اعداد وشمار اکٹھے ہیں ان کے مطابق سینٹرل جیل کوئٹہ، مچھ اور گڈانی میں 70کے لگ بھگ کم عمر قیدی ہیں جن میں سے 44کی عمریں 18سال سے کم ہیں ۔

بلوچستان میں کم عمر قیدیوں کے حقوق کے لئے 2000 میں بنائے جانے والے قانون جونائل جسٹس سسٹم میںنو عمر قیدیوں کو جیلو ں کے بجائے بورسٹل انسٹی ٹیوٹ میں رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

جیل میں نوعمر قیدیوں کی ایک بارک

جیل میں نوعمر قیدیوں کی ایک بارک

ماہر قانون جمیل رمضان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جونائل جسٹس سسٹم کے تحت کم عمر قیدیوں کوہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا، جبکہ ایسے قیدیوں کے مقدمات کی سماعت بھی کھلی عدالت میں نہیں ہو سکتی۔ جب کہ یہاں صورت حال اس کے الٹ ہے اور قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

جمیل رمضان کا کہنا تھا کہ ’’ حکومت نے لاکھوں روپے خرچ کرکے قانون بنایا مگر 2000ء سے آج تک اسے نافذ نہیں کیا جا سکا۔ غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس معاملے کو بہتر انداز میں اٹھانے میں ناکام نظر آتی ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی جوڈیشل جیل خانہ جات حمید اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بورسٹل انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے حوالے سے کوئٹہ کے نواحی علاقے نوحصار میں اراضی حاصل کرلی گئی ہے جبکہ اس کی تعمیر سے متعلق۱ پی سی ون کی سفارشات بھی صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے جیلوں میں 18سال سے کم عمر قیدیوں کی تعداد صرف 10کے قریب ہے ۔ اور انہیں بالغ قیدیوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے ۔ جبکہ ان کی تعلیم اور کونسلنگ کے لئے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ تک بورسٹل انسٹی ٹیوٹ قائم ہو جائے گا اور کم عمر قیدیوں کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق کم عمر قیدیوں کو باقاعدہ جیلوں میں جرائم کی سزا دینے سے ان کی بحالی کا عمل رک گیا ہے ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG