رسائی کے لنکس

کار ریلی میں ملک کے37 مایہ ناز ڈرائیوروں نے حصہ لیا، جِس میں 1300 سی سی سے لے کر 4000 سی سی تک کی گاڑیوں نے شرکت کی

گزرے سالوں کی طرح، اس سال 11سے 13 جنوری تک ’جھل مگسی ڈیزرٹ کار ریلی‘ کا شاندار انعقاد ہوا، جسے دیکھنے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ جھل مگسی پہنچے تھے۔

کار ریلی میں ملک کے37 مایہ ناز ڈرائیوروں نے حصہ لیا، جِس میں 1300 سی سی سے لے کر 4000 سی سی تک کی گاڑیوں کو شامل کیا گیا۔ اِن گاڑیوں کو بلوچستان کی سخت ترین زمین جھیلنے کے قابل بنایا گیا تھا۔ گاڑیوں کو چار حصو ں میں تقسیم کیا گیا تھا: یعنی، اے، بی،سی اور ڈی۔

منتظمیں کے ایک اعلان کے مطابق، ریس میں نادر مگسی نے اے کیٹیگری سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اِسی طرح، اسد کُھہڑو نےبی کٹیگری سے دوسری اور رونی پٹیل نےبھی بی کیٹیگر ی سے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

اعلان کے مطابق، حتمی نتائج حسب ذیل ہیں:

اے کیٹیگری سےٹویوٹا کروزرمیں نادر مگسی اور انکے کو ڈرائیور نصرت علی نے2 گھنٹے 1 منٹ اور 57 سیکنڈمیں سفر طے کرکے پہلی پوزیشن ، پجارو ایولوشن میں قاسم سیڈھی اور انکے کو ڈرائیور رضوان بٹّر نے 2 گھنٹے 5منٹ اور 46 سیکنڈ میں سفرطے کر کے دوسری پوزیشن او ر ٹویو ٹا ویگو میں رعنا سمیر اور انکے کو ڈرائیور ظفر خان نے2گھنٹے 17 منٹ اور 26 سیکنڈ میں سفرطے کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

اِسی طرح، بی کیٹیگری میں اسد کُھہڑو پہلی ، سی کیٹیگری سے ظفر مگسی اور ڈی کیٹیگری سے امین اللہ خان بھی پہلی پوزیشن حاصل کر سکے۔

لبنان کے ڈرفٹ چیمپین عبیدو فیغالی بھی ریس میں شریک تھے۔انہوں نے ماہرانہ اندازسے گاڑی چلا کر اورپاکستان کے مشہور موٹر سائیکل سوار اقبال گھانگلہ نے موٹر سائیکل دوڑا کرلوگوں سے داد وصول کی۔

کار ریلی ریس سے شغف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ریس کےانعقاد میں حکومت اپنا بھرپور کردار ادا کرے، تاکہ دنیا بھر کے ڈرائیور اِس ریس میں حصہ لینے کے لئے پاکستان آئیں، اور دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان ہر طرح کے کھیلو ں کے لئے ایک محفوظ ملک ہے۔

XS
SM
MD
LG