رسائی کے لنکس

صحافیوں کو سلامتی کے خدشات، خضدار پریس کلب بند


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

خضدار کے صحافیوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان پر مختلف سیاسی، قبائلی اور مسلح تنظیموں کی طرف سے اُن کی تمام خبریں من و عن شائع کرنے پر ایک عرصے سے زور دیا جاتا رہا ہے جس سے انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا گیا۔

بلوچستان کے جنوبی ضلع خضدار کے صحافیوں نے مسلح تنظیموں کی دھمکیوں کے بعد سلامتی کے خدشات کی بنا پر پریس کلب کو تالا لگا دیا ہے۔

خضدار کے صحافیوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان پر مختلف سیاسی، قبائلی اور مسلح تنظیموں کی طرف سے اُن کی تمام خبریں من و عن شائع کرنے پر ایک عرصے سے زور دیا جاتا رہا ہے جس سے انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا گیا۔

لیکن صحافیوں کے بقول شنوائی نہ ہونے پر انھوں نے پریس کلب کو بند کر دیا اور بعض صحافی بیرون ملک جب کہ بعض دیگر صوبوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ پریس کلب کی بندش کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور صحافیوں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلٹس اور کوئٹہ یونین آف جرنلٹس نے حکومت اور سیاسی، قبائلی، سرکاری اور مسلح تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ خضدار کے صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور صحافیوں کو غیر جانبدارانہ صحافت کرنے دی جائے۔

اُدھر ضلع مستونگ کے علاقے اسپیلنجی میں نا معلوم افراد نے بلوچستان کانسٹیبلری کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا۔ حملہ آور کارروائی کے بعد قریبی پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔

ضلع مستونگ کی انتظامیہ کے مطابق منگل کی صبح ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے بلوچستان کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو کوئٹہ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اس واقعے کی ذمہ داری یونائٹڈ بلوچ آرمی نامی کالعدم عسکری تنظیم نے قبول کی ہے۔

گزشتہ ماہ بھی ضلع لورالائی کے علاقے میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اسی دوران مختلف بم دھماکوں اور مسلح حملوں میں سکیورٹی فورسز کے ایک درجن سے زائد اہلکار اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG