رسائی کے لنکس

بلوچستان میں قیام امن کے لیے ایف سی پر عزم

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایف سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے اولین دو ماہ میں ہونے والے دو بڑے بم دھماکوں کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں اور صوبے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں تعینات فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خٹک نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی مجوعی صورتحال میں بہتری آئی اور آنے والے دنوں میں لوگ مزید پرامن ماحول میں زندگی گزار سکیں گے۔

کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رواں سال کے اولین دو ماہ میں ہونے والے دو بڑے بم دھماکوں کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں اور صوبے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

صوبہ بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران ہدف بنا کر قتل کرنے، سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور تنصیبات پر حملوں اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا صوبائی محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات سالوں میں صوبے میں ایسے مختلف واقعات میں اڑھائی ہزار سے زائد افراد ہلاک اور پانچ ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔

سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے 14 جنوری کو بلوچستان کی سابق حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا تھا فرنٹیئر کور کو پولیس کے اختیارات بھی تفویض کیے تھے۔ صوبے میں گورنر راج تو ختم ہوگیا ہے لیکن ایف سی کے پاس یہ تاحال یہ اختیارات موجود ہیں جسے استعمال میں لاتے ہوئے اس نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

انسپکٹر جنرل ایف سی عبیداللہ خٹک کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کے پاس صرف شر پسند اور جرائم پیشہ عناصر کی تلاش اور گرفتاری کا اختیار ہے جب کہ ان پر مقدمہ بنانا پولیس اور انھیں سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کو قرار واقع سزا دینے کے لیے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

صوبے کے عوام کے احساس محرومی کو ختم کرنے اور انھیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے کوششوں کے سلسلے میں ایف سی کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے عبیداللہ خٹک کا کہنا تھا کہ ایف سی میں مقامی بلوچ نوجوانوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے اور آئندہ پانچ سالوں اس فورس میں ان کی تعداد کو دس ہزار تک بڑھایا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG