رسائی کے لنکس

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر اور صوبائی حکام کی جانب سے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے: سرکاری ذرائع

پاکستان میں 8سال بعد بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہفتے کے روز شروع ہو رہا ہے جس میں صوبہ بلوچستان کے 32 ضلعی کونسلر اور 635 یونین کونسلز کے 66 حلقوں میں پولنگ ہوگی۔ صوبے کی تاریخ کے یہ ساتویں اور جماعتی بنیادوں پر ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات ہیں۔

انتخابات کیلئے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ صوبے میں ہفتے کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات رہیں گے، جبکہ 4000 فوجی اہلکار بھی فوری رسپانس کے طور اپنے فرائض انجام دیں گے۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر اور صوبائی حکام کی جانب سے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انتخابات قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس ناصر الملک کی نگرانی میں ہو رہے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ہفتے کو مجموعی طور پر 667 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ صوبے بھر میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد 2335 ہے۔ انتخابات کے لئے 5718 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

صوبے میں 32 ضلعی کونسلر اور 635 یونین کونسلز، 4میونسپل کارپوریشن، 53 میونسپل کمیٹیز اور صرف ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن ہے۔ شہری علاقوں میں 1057 وارڈز جبکہ یونین کونسلز میں 5498 وارڈز بنائے گئے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، خواتین کے لئے 33مخصوص نشستیں ہیں۔ صوبے میں 5718پولنگ اسٹیشنز اور 11842 بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے سے سیٹ ایڈجسٹمٹ کی وجہ سے کل 7190 نشستوں میں سے 2507 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔ تاہم، صوبے کے کل 34 لاکھ ووٹرز 4168 نشستوں پر لڑنے والے 18 ہزار امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ اپنے ووٹ سے کریں گے۔

دو ہزار 776 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، ایک ہزار 581 کو حساس جبکہ 958 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، سیکورٹی کی غرض سے ہی صوبے میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو 10 دسمبر تک جاری رہے گی۔ علاوہ ازیں، صوبے میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔
XS
SM
MD
LG