رسائی کے لنکس

بلوچستان: مجسٹریٹ کے اغواء کے خلاف وکلا سراپا احتجاج


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ضلع زیارت میں لیویز حکام کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ جام ساکا پیر کی شب زیارت سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے تھے اور اُن کے ہمراہ ایک محافظ اور ڈرائیور بھی تھا۔

بدامنی اور شورش کے شکار پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں پیر اور منگل کی درمیانی شب نا معلوم افراد نے ضلع زیارت کے جوڈیشل مجسٹریٹ کو اغواء کر لیا۔

اُن کے اغواء کے خلاف منگل کو وکلا نے کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

ضلع زیارت میں لیویز حکام کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ جام ساکا پیر کی شب زیارت سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے تھے اور اُن کے ہمراہ ایک محافظ اور ڈرائیور بھی تھا۔

اغواء کاروں نے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے سید حمید پُل کے قریب جوڈیشل مجسٹریٹ کے محافظ اور ڈرائیور کو تو چھوڑ دیا تاہم وہ جام ساکا کو اپنے ساتھ لے گئے۔

لیویز، پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے قلعہ عبداللہ میں اُن علاقوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں سے ممکنہ طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو اغواء کیا گیا۔

کسی نے جو ڈیشل مجسٹریٹ کے اغواء کے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے نہ ہی تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ سامنے آیا۔

منگل کو اس واقعہ کے خلاف بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے بھر پور احتجاج کیا اور ہائیکورٹ سمیت تمام متعلقہ عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ وکلاء جام ساکا کی بازیابی تک احتجاج جا ری رکھیں گے۔

ہم وکلاء یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک فرد کا اغواء نہیں ہے ایک مجسٹریٹ ایک شخص کا اغواء نہیں ہے بلکہ یہ تمام عدلیہ ایک آزاد عدلیہ کی طرف چلنے والے ایک ادارے پر حملہ ہے۔

ضلع پشین کی سرحدیں پڑوسی ملک افغانستان سے ملتی ہیں اور اس سے قبل بھی اس علاقے میں غیر ملکی امدادی تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کو اغواء کیا جا چکا ہے جنہیں اطلاعات کے مطابق بعد میں بھاری تاوان کی ادائیگی پر رہا کیا گیا۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل ایک جوائنٹ فورس بھی قائم کی گئی ہے جس کے ذمہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG