رسائی کے لنکس

حکومت کی عملداری تسلیم کرنے والے کمانڈروں کے لیے ایف سی کی طرف سے ضلع ڈیرہ بگٹی میں بحالی سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف برسر پیکار ایک خاتون کمانڈر سمیت درجنوں بلوچ عسکریت پسندوں نے ریاست کی عملداری تسلیم کرتے ہوئے اپنے ہتھیار فرنٹیر کور میں جمع کروا دیئے ہیں۔

حکومت کی عملداری تسلیم کرنے والے کمانڈروں کے لیے ایف سی کی طرف سے ضلع ڈیرہ بگٹی میں بحالی سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کی طرف سے وائس آف امر یکہ کو بتائی گئی تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ضلع ڈیرہ بگٹی میں ایک تقریب کے دوران کئی کمانڈروں سمیت تین سو افراد نے ریاست کی عملداری تسلیم کر نے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر سوئی رائفل کے کمانڈر بریگیڈئیر امجد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ڈیرہ بگٹی کے نوجوانوں کو اب احساس ہو گیا ہے کہ اُنھیں ذاتی مفادات کے حصول کے لیے گمراہ کیا گیا تھا۔

’’یہاں ( ضلع ڈیرہ بگٹی میں) ہماری آپ سب کی آمد ورفت بڑی آسان ہے دہشت گرد ابھی کیچھی قلات سے اوپر (والے علاقے میں) پائے جاتے ہیں۔۔۔ تین سو (عسکریت پسند) واپس آ گئے ہیں، ان میں بڑے بڑے کمانڈر ہیں۔‘‘

ایف سی ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ گزشتہ بدھ کو ایک خاتون کمانڈر گُل خاتون کی قیادت میں 13 فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

یہ لوگ ضلع ڈیرہ بگٹی سے ملحقہ علاقے راجن پور میں اور سوئی تحصیل میں قومی تنصیبات کو نشانہ بناتے تھے، جب کہ جمعرات کو خاران میں گیارہ فراریوں نے آئی جی ایف سی کی موجودگی میں ہتھیار رکھ کر ریاست کی عملداری کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس طرح 20 جنوری سے 23 فروری 2017 تک ایک خاتون کمانڈر سمیت 325 افراد نے ریاست کی عملداری تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ حکام کے مطابق سیکڑوں دیگر رابطے میں ہیں اور اُن کو بھی جلد قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے مطابق ہتھیار رکھ کر ریاست کی عملداری تسلیم کر نے والوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے بھی ایف سی نے اقدامات شروع کر دئیے ہیں، واپس آنے والوں نقد دینے کے علاوہ اُنھیں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے مختلف ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔

جون 2015 میں صوبائی حکو مت نے پرامن بلوچستان مفاہمتی پالیسی کا اعلان کیا تھا، اس پالیسی کے تحت پہاڑوں کا رُخ کرنے والے فراریوں کو عام معافی دینے کے علاوہ 15 لاکھ روپے تک دینے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد اب تک تقر یباً ایک ہزار سے زائد ایسے افراد کو اب تک قومی دھارے میں شامل کیاگیا ہے۔

50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا پاک چین اقتصادی راہداری کے کا بڑا حصہ قدرتی وسائل سے مالامال اس جنوب مغربی صوبے سے گزر کر ساحلی شہر گوادر پہنچتا ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بعض ہمسایہ ممالک اس راہداری کو ناکام بنانے کے لیے بعض بلوچ عسکری تنظیموں کی مالی مدد کر رہے ہیں جس کی ہمسایہ ممالک تردید کر تے آئے ہیں۔

یہ امر قابل ذ کر ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں اب تخریب کاری ، دہشت گردی اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں 80 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے جس کو وفاقی و صوبائی حکومت اور سکیورٹی ادارے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG