رسائی کے لنکس

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم عدالتی کمیشن کا دورہ بلوچستان

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے تین رکنی عدالتی کمیشن کے ارکان ان دنوں کوئٹہ میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اُن افراد سے معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جن کے عزیز واقارب لاپتہ ہیں۔ کمیشن کے چیئر مین جسٹس ریٹائرڈمنصور کمال اور ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ فضل الرحمان کے سامنے بدھ کوبلوچستان سے لاپتہ ہونے والے63 لاپتہ افراد کے عزیزوں اور رشتہ داروں نے پیش ہو کر تفصیلات فراہم کیں۔

کمیشن کے ایک تر جمان عر فان احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عدالتی کمیشن کے ارکان اپنے تین روزہ قیام کے دوران تمام حقائق اکٹھے کرنے کے بعد لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لائحہ عمل کا اعلا ن کریں گے ۔ ترجمان نے بتایا کہ بدھ کو کمیشن کے اجلا س میں وزارت دفاع ، داخلہ ،قائم مقام آئی جی ، ڈسٹر کٹ پو لیس افسران اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندے نے شرکت کی۔

بلو چستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنے عزیزوں کی بازیابی کے لیے سپر یم کورٹ میں بھی رٹ دائر کر رکھی تھی جس پر عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ لاپتہ افراد کے کوائف جمع کرنے اور اُن کی بحالی کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے ۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے تین رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا جو اپنے قیام کے بعد پہلی مرتبہ بلوچستان کو دورہ کررہا ہے ۔ کمیشن کو چا ر مہینوں میں اپنی تحقیقات مکمل کر نی ہیں۔

صوبے سے لاپتہ افراد کی ایک نمائندہ تنظیم بلو چ مسنگ پر سنزکے چیئر مین نصر اللہ بلو چ نے وائس اف امر یکہ کو بتایاکہ وہ کمیشن کے اجلاس میں پیش ہو ئے ہیں لیکن اُنھیں اس سے زیادہ اُمید اس لیے نہیں ہے کیوں کہ اُن کے بقول کمیشن کے سامنے انٹیلی جنس حکام اب تک پیش نہیں ہوئے ہیں۔

بلو چستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ تقریباً ایک دہائی سے چلا آرہا ہے اور صوبے کی قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو ایک فہرست پیش کی تھی جس میں یہ دعویٰ کیاگیا تھا کہ صوبے کے ہزاروں افراد لاپتہ ہو گئے ہیں لیکن وفاقی اور صوبائی حکومت کہہ چکی ہے یہ تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG