رسائی کے لنکس

نیٹو کے ٹینکر بلوچستان سے باہر منتقل کیے جائیں: صوبائی حکومت

  • ستار کاکڑ

سامان رسد لے جانے والے ٹرکوں پر پہلے بھی دہشت گردانہ حملے ہوتے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

سامان رسد لے جانے والے ٹرکوں پر پہلے بھی دہشت گردانہ حملے ہوتے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد حکام نے خیبر ایجنسی اور چمن کے راستے بین الاقوامی افواج کو تیل اور دیگر سامان رسد کی ترسیل احتجاً بند کر دی تھی۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد سینکڑوں ٹرک بلوچستان کے مختلف اضلاع میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ اسلم ریئسانی نے جمعہ کو صوبائی عہدیداروں کے ایک اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ صوبے میں کھڑے ٹینکروں اور ٹرکوں کو جلد از جلد نکل جانے کے لیے کہا جائے۔ اس فیصلے کے بعد کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں کئی دنوں سے کھڑی ان گاڑیوں نے بلوچستان سے جانا شروع کر دیا ہے۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نیٹو کے لیے سامان رسد لے جانے والی گاڑیوں کو صوبہ چھوڑنے کے لیے اس لیے کہا گیا ہے کیوں کہ بلوچستان میں ان کی موجودگی کی صورت میں شدت پسند ان پر حملہ کر کے تباہ کر سکتے ہیں۔

جمعرات کو بھی صوبائی دارالحکومت کے علاقے خروٹ آباد میں نیٹو افواج کے لیے سامان رسد کی ترسیل سے لدے ٹرکوں پر نامعلوم افراد نے راکٹ حملہ کر دیا جس سے وہاں موجود 25 آئل ٹینکر جل کر راکھ ہو گئے۔

صوبائی حکومت کے مطابق نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹرک اور آئل ٹینکر صوبے سے چلے جائیں گے لیکن جب تک وہ بلوچستان میں موجود ہیں تو صوبائی حکومت نے کسی بھی طرح کی تخریبی کارروائی کی حوصلہ شکنی کے لیے اضافی حفاظتی دستے بھی ان علاقوں میں معمور کررکھے ہیں جہاں یہ گاڑیاں کھڑی ہیں۔

نیٹو حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر پاکستان میں انتہائی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور حکومت نے نیٹو سپلائی لائنز بند کرنے کے علاوہ بلوچستان میں شمسی ایئر بیس امریکہ سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG