رسائی کے لنکس

بلوچستان میں چار ماہ سے پولیو کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا


حکام کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس پر 99 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، گزشتہ چار ماہ سے صوبے کے کسی بھی علاقے میں پولیو سے کسی بچے کے متاثر ہونے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہٴ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس پر 99 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، گزشتہ چار ماہ سے صوبے کے کسی بھی علاقے میں پولیو سے کسی بچے کے متاثر ہونے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

کوئٹہ میں پولیو ایمرجنسی سنٹر کے حکام کے مطابق، انسانی جسم کو عمر بھر کے لئے معذور کر دینے والی بیماری کی تشخیص کےلئے تین ماہ پہلے شہر کے مرکزی نکاسی آب کے نالوں سے 10 نمونے لئے گئے تھے۔ جن میں سے صرف چار میں پولیو وائرس پایا گیا تھا۔

اس کے بعد، بھرپور طریقے سے پولیو مہم چلائی گئی اور اب گزشتہ ماہ لئے گئے تمام نمونوں کا نتیجہ صفر آیا ہے۔

پولیو ایمرجنسی سنٹر کے ٹیکنیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر آفتاب نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ پولیو کے حوالے سے مائیکرو سینس کرکے ہماری ٹیم نے خانہ بدوشوں سمیت صوبے کے دیگر تمام خاندانوں کے پانچ سال تک عمر کے بچوں کا مکمل ڈیٹا تیار کر لیا ہے اور اب خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں کی پولیو سے متاثر ہونے والے وائرس پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’خانہ بدوش لوگوں کی جو نقل حرکت ہوتی ہے اُس کے ساتھ وائرس بھی منتقل ہوتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر آفتاب نے کہا کہ ’’سائنسی طور پر ہم اس کو دیکھ رہے ہیں۔ اُس میں ایک وائرس کی حرکت ہے اب ہم نے خانہ بدوش خاندانوں کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے۔ یہ بھی پتا کر لیا ہے کہ کس کس روٹ سے جا رہے ہیں، کہاں اور کدھر جا رہے ہیں۔ وہ ڈیٹا بھی ہم نے جمع کر لیا ہے۔ پولیو کیسز اس لئے نہیں آ رہے کہ ہمارے صوبے کے بچوں کو پولیو کے خلاف مدافعت کے قطرے پلائے گئے ہیں، جس سے اُن کی مدافعتی قوت قوی تر ہوگئی ہے۔‘‘

قدرتی وسائل سے مالا مال اس صوبے میں 2011ء سے 2016 ء تک پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد حکامنے 113 بتائی تھی؛ ان میں 2016 کے دوران سامنے آنے والے دو کیس بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب نے کہا ہے کہ آغا خان فاﺅنڈیشن کی طرف سے حال ہی میں ضلع کوئٹہ کے مختلف علاقوں کے بچوں کے خون کے نمونوں کے تجزئے میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے 98 فیصد افراد کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے اُن کی مدافعتی قوت مضبوط ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب پولیو مہم کے بعد اب اگر کسی بچے کو پولیو وائرس لگ بھی جاتا ہے تو مضبوط مدافعتی قوت کے باعث بچہ جسمانی طور پر پولیو سے متاثر نہیں ہوگا۔ اب ایمرجنسی سینٹر کی طرف سے بچوں کو پولیو کے خلاف قوت کو قوی تر کرنے کےلئے انجکشن لگائے جائین گے اور اس کے لئے مہم 17 سے 25 اپریل تک چلائی جائیگی۔

انسانی جسم کو عمر بھر کےلئے معذور کر دینے والی بیماری پر دنیا کے بیشتر ممالک نے قابو پالیا ہے۔ تاہم، پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں ابھی تک اس بیماری سے کم سن بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ 2016ء میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں پولیو سے 20 بچے متاثر ہوئے تھے، جن میں سے دو بلوچستان کے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG