رسائی کے لنکس

انسداد پولیو کے ماہرین کے مطابق، اس وقت دنیا کے 95 فیصد پولیو کیسزکا تعلق پاکستان سے ہے۔ کوئٹہ، لورالائی اور قلعہ عبداللہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ہر مہم میں تقریباً21ہزار بچے قطرے پینے سے رہ جاتے ہیں۔۔اور۔۔۔ دہشت گردی کے بعد پولیو پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ ہے‘

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے پانچ اضلاع اور اس کی حدود میں آنے والی 51 یونین کونسل پولیو وائرس کے لئے ’ہائی رسک‘ ہیں یعنی یہاں پولیو کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ یہ خطرہ اسی وقت ختم ہوسکتا ہے جب یہاں پولیو کے خاتمے کے لئے مؤثر حکمت عملی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

بلوچستان کو پولیو فری بنانے کے لئے قائم ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈی نیٹرڈاکٹرسید سیف الرحمن اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے’یونیسیف‘ کی کمیونی کیشن اسپیشلسٹ، ڈاکٹر جواہرحبیب کے مطابق ’اس وقت دنیا کے 95فیصد پولیو کیسز کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بلوچستان کی51یونین کونسلز ’ہائی رسک‘ ہیں ۔ یہاں انسداد پولیو مہم مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔‘

ڈاکٹرسید سیف الرحمن

ڈاکٹرسید سیف الرحمن

ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کا نہایت سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے اور انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے مزید بہتر حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ’بلوچستان میں کمیونٹی ہیلتھ ولینٹرئیرز کو متعارف کیا جار ہا ہے۔ ان کے ذریعے یہ امر یقینی بنایا جائے گا کہ صوبے،خصوصاً تمام ’ہائی رسک یونین کونسلز میں ہربچہ جس کی عمر 5 سال سے کم ہے، اسے انسدادپولیوکے قطرے پلائے جائیں۔‘

ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پولیو ایک اہم اور خطرناک مسئلہ ہے ، اس کے خاتمے کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔‘

ڈاکٹر جواہر حبیب نے بتایا کہ ’بلوچستان میں ہر مہم میں تقریباً21ہزار بچے قطرے پینے سے رہ جاتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ تاہم، اس کے سدباب کیلئے بھی ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’رواں سال، بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، لورالائی اور قلعہ عبداللہ میں تین پولیو کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان کیسز کے مکمل خاتمے کے لئے ہر فرد کو بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔ کیوں کہ، دہشت گردی کے بعد پولیو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہمارے بچوں کا مستقبل پولیو کے خطرے سے دوچار ہے۔‘

XS
SM
MD
LG