رسائی کے لنکس

آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے ایک سال بعد

  • حسن سید

پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی سینیٹر رضا ربانی نے کی تھی

پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی سینیٹر رضا ربانی نے کی تھی

مبصرین کی رائے میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج کو ایک دھچکا اس وقت لگا جب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے گذشتہ ماہ کے شروع میں کوئٹہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ صوبے میں حکومت کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے اختیارات فرنٹیر کور کو دیے جا رہے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کے خلاف ’’ٹارگٹڈ کارروائی‘‘ کی جا سکے اور اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر نے بلوچ لبریشن آرمی سمیت پانچ عسکریت پسند تنظیموں کو کالعدم بھی قرار دیا اور ان کے اثاثے منجمند کرنے کا اعلان کیا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے گذشتہ سال آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت ناراض بلوچ رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات ، سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات ، مزید چھاؤنیوں کا قیام روکنے ، مخصوص علاقوں سے فوج کی واپسی اور صوبے کو اس کے وسائل پر زیادہ اختیار دے کر اس کا احساس محرومی دور کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربّانی کی سربراہی میں قائم ایک پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے تیار کیے گیے اس پیکج کے اعلان کے وقت ہی کئی قوم پرست بلوچ رہنما اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے تھے لیکن اب جب اسے ایک سال ہونے کو ہے توصوبے کی اہم شخصیات اس کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض ایک مصنوئی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

جبکہ حکومتی عہدیدار اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کیوں کہ ان کا موقف ہے کہ اس صوبے کے مسائل جو گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ فوری طور پر سب کچھ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی اقتصادی مشکلات کے باوجود بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ فنڈ میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی ۔

مبصرین کی رائے میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج کو ایک دھچکا اس وقت لگا جب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے گذشتہ ماہ کے شروع میں کوئٹہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ صوبے میں حکومت کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے اختیارات فرنٹیر کور کو دیے جا رہے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کے خلاف ’’ٹارگٹڈ کارروائی‘‘ کی جا سکے اور اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر نے بلوچ لبریشن آرمی سمیت پانچ عسکریت پسند تنظیموں کو کالعدم بھی قرار دیا اور ان کے اثاثے منجمند کرنے کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے ایک روز بعد ہی بلوچستان کے وزیر خزانہ میر عاصم کرد کی رہائش گاہ پر ایک خود کش حملہ ہوا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے لیکن ان کے دو محافظ اور ایک ملازم ہلاک ہو گیا ۔

رحمن ملک

رحمن ملک

وفاقی وزیر داخلہ کے اعلان کو مبصرین اور خود صوبے کی کئی اہم شخصیات نے یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس سے مصالحت کے ذریعے صوبے میں استحکام لانے کی کوششوں کو نقصان ہوگا اور صورت حال مزید خراب ہوگی جبکہ حکمران پیپلز پارٹی کے نمائندے رحمن ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کے انھوں نے جو بھی کہا وہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوۓ تھا جسے برقرار رکھنا بہرحال حکومت کی ذمے داری ہے ۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بلوچستان کی نیشنل پارٹی کے ایک مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ جب صدر زرداری نے بلوچستان کے ساتھ ہونے والی تاریخی ’’زیادتیوں‘‘ پر معافی مانگی تھی یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔

لیکن سابق سینیٹر کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں ماضی کی حکومتوں سے کسی طور مختلف ثابت نہیں ہوئیں ’’جو بھی بڑے بڑے دعوے کیے گیے ان میں سے ایک فیصد پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا‘‘۔

طاہر بزنجو

طاہر بزنجو

اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن لاپتہ افراد کی بازیابی کا وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا بلکہ موجودہ حکومت کے دور میں ماضی کی نسبت لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح نواب اکبر بگٹی قتل کی تحقیقات کے لیے ٹربیونل تو تشکیل دیا ہے لیکن اب تک ذمے داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی جبکہ کئی علاقوں میں فوج بھی بدستور موجود ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سعیدہ اقبال کا کہنا ہے کہ بلوچستان پیکج پر عمل درآمد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ان تمام وعدوں کو پورا کیا جائے جو بلوچستان اور اس کے عوام سے کیے گئے تھے ۔

’’لیکن ایک دم کچھ نہیں ہوگا جیسا کہ پیکج کے نام سے بھی ظاہرہے کہ یہ حقوق کا آغاز ہے اور اس پر عمل درآمد کے نتائج بھی وقت کے ساتھ برآمد ہوں گے‘‘۔

سعیدہ اقبال کا کہنا ہے کہ پیکج کے مطابق بلوچستان میں بی اے پاس افراد کے لیے نوکریوں کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس پر اسی فیصد آسامیاں پر ہو چکی ہیں اور اس کا خرچہ اگلے چار سال تک وفاق اٹھائے گی جبکہ وفاقی سطح پر بھی اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ نوکریوں میں بلوچستان کا کوٹا جو چھ سے نو فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے وہ صرف بلوچوں کو ہی حاصل ہوں۔

طاہر بزنجو اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کے محض نوکریاں دینے یا ترقیاتی منصوبوں سے بلوچستان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں یا اس کا احساس محرومی دور ہو سکتا ہے ۔

’’اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے آئین اور وفاقیت کی روح کے مطابق بلوچستان سمیت تمام اکائیوں کے درمیان دولت اقتدار اور حاکمیت کی منصفانہ تقسیم کی جائے، اگر عدم توازن روا رکھا جائے گا تو یقینا باغیانہ رجحانات فروغ پائیں گے‘‘۔

جبکہ عسیدہ اقبال کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بہت سے مسائل کے حال میں ایک بنیادی رکاوٹ یہاں کا سرداری نظام بھی رہا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں اصلاحات ہی نہیں آ سکیں اور ہر مسئلے کا ذمے دار وفاق کو ٹھہرانا درست نہیں ۔

XS
SM
MD
LG