رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں بم دھماکا، پولیس اہلکاروں سمیت تین ہلاک

  • ستار کاکڑ

زخمیوں میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں جمعرات کو تشدد کے دو تازہ واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں فر نٹئیر کور کے چار اور پولیس کے تین اہلکار وں سمیت 16 عام شہری بھی شامل ہیں۔

پولیس حکا م کے مطابق کوئٹہ کے مصروف کاروباری علاقے سر کی روڈ پر ایف سی کے اہلکاروں کی گاڑی کھڑی تھی کہ اُس کے قریب سائیکل میں نصب بم میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا، جس میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

دھماکے کے بعد ایف سی اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمیوں کو سول اسپتال و فوج کے زیر انتظام اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جن میں ایف سی کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔

صوبائی وزیرداخلہ میر سر فراز بگٹی نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ بظاہر یہ کارروائی علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کی ہے۔

’’ہم پہلے دن ہی سے سکیورٹی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، یہ سلسلہ وار واقعات ہیں اور ان کے سدباب کے لیے ہم دہشت گردوں کو اس طرح آزاد نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

اس سے قبل جمعرات کی صبح بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مسیحی برادری کے چرچ کے قریب بم دھماکے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق چرچ کے قریب بارودی مواد پہلے سے نصب تھا۔

بلوچستان میں یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب جمعرات کو بلوچ قوم پرست تنظیمیں بزرگ رہنما نواب خیر بخش مری کے بیٹے، بالاچ مری کی برسی منا رہی ہیں اور اس موقع پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت کئی دیگر اضلاع میں جزوی ہڑتال بھی کی گئی۔

کوئٹہ میں بدھ کی رات بھی یکے بعد دیگر ے تین بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔

ان تینوں دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم یونائیٹڈ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
XS
SM
MD
LG