رسائی کے لنکس

کوئٹہ: پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہڑتال کے دوران بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مختلف علاقوں میں گشت کرتے رہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو پرتشدد واقعات میں 14 افراد کی ہلاکت کے بعد جمعہ کو فضا سوگوار رہی جب کہ شہر میں ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بھی معطل رہے۔

ہڑتال کی کال ہزارہ ڈیموکریٹک فرنٹ اور مجلس وحدت المسلمین نے گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ہدف بنا کر شیعہ ہزارہ برادری کے نو افراد کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے طور پر دی تھی۔

ہڑتال کے دوران بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مختلف علاقوں میں گشت کرتے رہے۔ حساس مقامات پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کانسٹبلری کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ماضی کی نسبت صورتحال خاصی بہتر ہے لیکن ان کے بقول حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مزید ہر ممکن اقدام کرے گی۔

گزشتہ روز شہر کے دو مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مذہبی و سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی گاڑی پر ہونے والے خودکش بم حملے میں دو افراد جب کہ شہر کے علاقے قمبرانی روڈ پر موٹرسائیکل میں نصب بم پھٹنے سے کم ازکم تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مولانا فضل الرحمن پر ہونے والے خودکش بم حملے کے خلاف ان کی جماعت نے جمعہ صوبے کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔

بلوچستان میں گزشتہ کئی ماہ سے حالات نسبتاً پرامن رہنے کے بعد حالیہ ہفتوں میں کوئٹہ میں تشدد کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے۔ حکام کے بقول ایک سریع الحرکت فورس بھی تشکیل دی گئی تاکہ ایسے واقعات سے فوری طور پر نمٹا جاسکے۔

صوبے میں مقیم شیعہ ہزارہ برادری پر جمعرات کو ہونے والا حملہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس برادری کے لوگوں کو حالیہ برسوں میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے علاوہ ان پر بم حملوں کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں جن میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG