رسائی کے لنکس

مغوی ڈپٹی کمشنر18دن بعد رہا

  • ستار کاکڑ

اغوا کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی ہے جو علاقے میں دہشت گردانہ کارروائی کرتی رہتی ہیں

اغوا کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی ہے جو علاقے میں دہشت گردانہ کارروائی کرتی رہتی ہیں

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے ڈپٹی کمشنر شوکت مرغزانی کو 18دن بعد جمعرات کے روز بولان کے پہاڑی علاقے میں رہا کر دیا گیا ۔

لیو یز حکام نے ڈپٹی کمشنر کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شوکت مرغزانی کوپانچ سرکاری محافظوں اور ایک سرکاری عہدیدار سمیت نامعلوم افراد نے 31جنوری کو ضلع بولان کے علاقے آب گُم سے اغواء کیا تھا۔ اس دوران اغوا کاروں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ایک انسپکٹر سمیت چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

اغواء کی ذمہ داری ایک کالعدم بلوچ عسکری تنظیم نے قبول کی تھی۔ مغوی کمشنر کی بازیابی کے لیے ناصرف سکیورٹی فورسز علاقے میں کارروائی کر رہی تھیں بلکہ قبائلی عمائد ین کے ذریعے بھی اغوا کاروں سے رابطے کیے جارہے تھے۔ ان ہی رابطوں کے بعد اغوا کاروں نے کمشنر کے محافظوں اورسرکاری افسر کواغواء کے ایک ہفتے بعدرہا کر دیا تھا۔

رواں سال کے آغاز سے بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچ عسکریت پسندوں کے حملوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے اورصوبے میں سکیورٹی اداروں کے اہم افسران کو ہدف بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

بلوچستان کے چیف سیکرٹری ، انسپکٹر جنرل پولیس، سیکرٹری داخلہ اور کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسر ان کی گاڑیوں کے قافلے پر بھی ضلع بولان کے علاقے میں راکٹوں اور خودکارہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ۔

قافلے میں شامل تمام افراد اس حملے میں محفوظ رہے۔ یہ افسران اغواکیے جانے والے ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے بعد واپس کوئٹہ آرہے تھے۔ اس حملے کا دعویٰ بھی ایک کالعد م بلوچ عسکر ی تنظیم نے کیا ہے جو اس سے پہلے بھی ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر تی رہی ہے ۔

XS
SM
MD
LG