رسائی کے لنکس

بلوچستان میں بیوپاریوں اور خریداروں کی پریشانیاں

  • ستار کاکڑ

بلوچستان میں بیوپاریوں اور خریداروں کی پریشانیاں

بلوچستان میں بیوپاریوں اور خریداروں کی پریشانیاں

عید الضحیٰ کے موقع پر سندھ اور پنجاب کے مختلف شہر وں سے قربانی کے لاکھوں جانور کو ئٹہ اور صوبے کے دیگر شہر وں میں فروخت کے لئے لا ئے جا تے ہیں اور کو ئٹہ کے نواحی علاقوں مشرقی بائی پاس ، کلی عالمو ، اسپینی روڈ اور دیگر علاقوں میں لگائے گئے ان مو یشیوں کی فروخت کے لئے منڈیاں لگائی گئی ہیں ۔ جہاں پر بکرے اور دُنبے کی قیمت دس سے پینتیس ہزار اور بیل ،گائے کی ایک سے اڑھائی لاکھ تک بتائی جاتی ہے ۔

تمام مقامی منڈیوں میں خر یدار وں سے زیادہ تعداد بیوپاریوں کی نظر آتی ہے، خر یداروں کو مو یشی مہنگے ہونے اور بیوپاریوں کو خر یدار نہ ہونے کی شکایت عام سننے میں آتی ہے ، جس کی وجوہات بتاتے ہوئے مقامی انجمن تاجران کے رہنما محمد افضل زہری نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ مو یشی اب بھی ایران اور افغانستان اسمگل کئے جارہے ہیں یہاں پر ٹرالر بسیں اور گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں رات کو مویشیوں کو لاد کر لے جایا جاتا ہے۔

انہو ں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مو یشیوں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے پاکستان کی ایران اور افغانستان کے ساتھ لگنے والی سر حدوں کو سیل کیا جائے ۔

سر کاری ملازم داد محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کے جیب میں صرف چارہزار روپے ہیں جبکہ یہاں دس ہزار سے کم کوئی دنبہ یا بکرا ہی نہیں ہے اس لئے وہ کچھ بھی خرید نہیں سکے گا اور مہنگائی کی وجہ سے قربانی بھی نہیں کر پائے گا۔

بیوپاری حضرات کا کہنا ہے کہ مو یشی منڈ ی میں بہت زیادہ ہیں لیکن خر یدار کو ئی نہیں ہے مو یشیوں کی خر ید و فروخت کر نے والے خادم حسین لہڑی کا کہنا ہے کہ مشر قی بائی پاس پر لگائے گئے اس منڈ ی میں اب زیادہ لوگ مو یشی خر یدنے کے لئے نہیں آرہے کیونکہ ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے شہر ی عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں انہوں نے کہا کہ منڈ ی میں مو یشی بہت زیادہ ہیں اور دام بھی بہت زیادہ نہیں ہیں۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان علی مدد جتک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مو یشیوں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے صوبائی حکومت نے کافی مو ثراقدامات کر لئے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG