رسائی کے لنکس

کوئٹہ: سیکیورٹی خدشات کے باعث خیراتی اسپتال بند کرنے کا فیصلہ

  • ستار کاکڑ

ایل آر بی ٹی کے زیر انتظام ایک اسپتال میں مریض کی آنکھوں کا معائنہ کیا جارہا ہے۔

ایل آر بی ٹی کے زیر انتظام ایک اسپتال میں مریض کی آنکھوں کا معائنہ کیا جارہا ہے۔

امراض چشم کے اس اسپتال میں روزانہ 350 مریضوں کا علاج کیا جارہا تھا جب کہ روزانہ کی بنیاد پر 30 سے زائد آپریشن کیے جاتے تھے۔

بلوچستان میں بدامنی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث صوبائی دارالحکومت کے نواح میں واقع آنکھوں کے امراض کے خیراتی ادارے ایل آر بی ٹی کو اس کی انتظامیہ نے بند کر نے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اسپتال کی مشینری ملک کے دوسرے بڑے شہر وں کو منتقل کر نے کا سلسلہ شر وع کردیا گیا ہے ۔

کو ئٹہ میں اسپتال کی انتظامیہ نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ مرکزی دفتر سے اُنھیں اسپتال کی مشینری ملک کے دوسرے شہر وں میں منتقل کرنے کے تحریر ی احکام مو صول ہونے کے بعد سامان کو منتقل کر نے کا کام شروع ہو گیا ہے ۔

کو ئٹہ میں سیکرٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ مقامی میڈیا کے ذریعے اُن کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ آنکھوں کے امراض کا خیراتی اسپتال بند کیا جارہا ہے اور یہ صوبے کے لوگوں کی بدقسمتی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ادارہ بلوچستان کے عوام کی بہتر ین طر یقے سے خدمت کر رہا تھا اور ان کی کو شش ہو گی کہ اس ادارے کی منتقلی کو ہر صورت میں روک سکیں۔

’’ایل آر بی ٹی کا جو کام ہے جو پرفارمنس ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے تو صحت کی سہولتوں اور خاص طور پر آنکھوں کی بیماری کے لیے بہت بہترین سروسز دے رہے تھے۔ بدقسمتی سے یہ دستبردار ہوجائیں تو یہ ہمارے لوگوں کی بدنصیبی ہو گی۔۔۔ وزیراعلیٰ صاحب نے واضح ہدایات دے دیں ہیں کہ اس ادارے کے کام کو جاری رہنا چاہیئے اور یہ سہولت عوام کے لیے یہاں برقرار رہنی چاہیئے۔‘‘

صوبائی دارالحکومت سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع آنکھوں کا خیر اتی اسپتال پچاس بستروں پر مشتمل ہے جہاں چار سینیئر ڈاکٹر اور سو سے زائدافراد پر مشتمل دیگر عملہ کام کر تا ہے ۔ یہاں روزانہ آنکھوں کی بیماری میں مبتلا 350 سے زائد مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور 35 سے زائد آپریشن بھی روازنہ کی بنیاد پر کیے جارہے تھے۔

انتظامیہ کا کہناہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ خراب صورتحال میں اسپتال کی انتظامیہ کے لئے ڈاکٹرو ں اور عملے کو تحفظ فراہم کر نا ممکن نہیں ہے اس لئے پہلے اسپتال کی مشینری منتقل کی جائے گی اور بعد میں اسپتال کو مکمل بند کر دیا جائے گا ۔

ایل آر بی ٹی کے ایک ممتاز ماہر چشم ڈاکٹر سعید احمد خان کو گزشتہ اکتوبر میں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا ، اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر سعید کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے بعد ممکن ہوئی۔

وفاقی و صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں جن میں پولیس کی خصوصی فورس کے دستوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG