رسائی کے لنکس

بلوچستان: ڈاکوؤں سے مسلح تصادم میں پانچ اہلکار ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کے مطابق اس مسلح جھڑپ میں ایک اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے جنوبی ضلع مستونگ میں ڈاکوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ ڈکیتی کے واقعات میں ملوث گروہ میں شامل ایک شخص مارا گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں تین اہلکاروں کا تعلق پولیس سے جب کہ دو کا لیویز فورس سے ہے۔
حکام کے مطابق اس مسلح جھڑپ میں ایک اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق منگل دن ڈیڑھ بجے پانچ مسلح ڈاکو مستونگ بازار میں واقع ایک بنک میں داخل ہوئے اور وہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر اندھا دُھند فائرنگ کی، جس سے ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

تاہم ڈیوٹی پر موجود دوسرے پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ڈاکو رقم لوٹے بغیر ہی وہاں سے فرار ہو گئے۔

پولیس حکام کے بقول مستونگ بازار کے دوسرے علاقے میں پولیس اور لیویز اہلکاروں کا فرار ہونے والے ڈاکوﺅں سے آمنا سامنا ہوا، جس پر مسلح افراد نے ایک بار پھر پولیس کی گاڑیوں پر فائرنگ کی جس کی زد میں آکر اسسٹنٹ کمشنر شفقت انور، ڈی ایس پی نذیر بنگلزئی، نائب تحصیلدار سبزل شاہ سمیت گیارہ اہلکار زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے سے زائد تک جاری رہا۔ مستونگ کی ضلعی انتظامیہ نے دو ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چند روز قبل بھی ڈاکوﺅں نے ایک اہم شاہراہ پر واقع نجی بینک میں ڈکیتی کے دوران وہاں تعینات نجی کمپنی کے سکیورٹی گارڈ کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ ڈاکو پچاس لاکھ سے زائد رقم بھی لوٹ کر لے گئے تھے۔

صوبے کے دیگر اضلاع حب، قلات اور دیگر علاقوں میں بھی بینک ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کے واقعات میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ ڈکیتی کی کارروائیوں میں شامل افراد کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG