رسائی کے لنکس

پاکستان کی سلامتی بلوچستان کے امن سے منسلک ہے: چودھری نثار

  • ستار کاکڑ

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

چودھری نثار علی خان نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ لوگ ملک میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے اور ان کے بقول جو لوگ بلوچستان میں فساد برپا کر رہے ہیں ان کے پیچھے پاکستان دشمن قوتیں ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بلوچستان کی ہی نہیں پورے پاکستان کی جنگ ہے اور پاکستان کی سلامتی اورصوبے کی سلامتی اور امن سے منسلک ہے۔

یہ بات انھوں نے ہفتہ کو لورالائی میں فرنٹیئر کور بلوچستان کے تربیت مکمل کرنے والے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

چودھری نثار علی خان نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ لوگ ملک میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے اور ان کے بقول جو لوگ بلوچستان میں فساد برپا کر رہے ہیں ان کے پیچھے پاکستان دشمن قوتیں ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کے عزائم کو مشترکہ کوششوں سے شکست دے کر بلوچستان میں امن قائم کیا جائے گا۔

"کوئی وہم و ابہام میں نہ رہے، ہم نے بلوچستان کے چپے چپے کی حفاظت بھی کرنی ہے اور اس کو ترقی بھی دینی ہے۔ پاکستان اور بلوچستان کا مستقبل ایک ہے، پاکستان کی سلامتی بلوچستان کی سلامتی اور امن سے جڑی ہوئی ہے۔"

قدرتی وسائل سے مالا مال لیکن ملک کے اس پسماندہ ترین صوبے کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے شورش پسندی کا سامنا رہا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں یہاں شدت پسندوں اور عسکری تنظیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال ماضی کی نسبت بہتر ہوئی ہے۔

چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل کی وجہ سے دنیا کے بہت سے ملکوں کی نظریں اس خطے پر لگی ہوئی ہیں لیکن ان کے بقول بلوچستان کو اور محفوظ بنا کر اسے ترقی دی جائے گی کیونکہ اس خطے پر بلوچستان کے عوام اور پاکستان کا حق جس کا تحفظ کیا جائے گا۔

پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی حکام یہ کہتے ہیں کہ مبینہ طور پر بھارت اپنی خفیہ ایجنسی "را" کے ذریعے بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے جس کے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ لیکن بھارت ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

بلوچستان میں قیام امن کے لیے ناراض اور جلا وطن بلوچ رہنماؤں سے صوبائی رہنماؤں نے ملاقاتیں اور رابطے بھی کیے ہیں اور اس ضمن میں حالیہ ہفتوں میں خاصی پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG