رسائی کے لنکس

اطلاعات کے مطابق زرغون روڈ پر فائرنگ کے ایک واقعے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سات کارکن زخمی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ سمیت جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے پشتون اکثریتی آبادی والے علاقوں میں ہفتے کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔

اس ہڑتال کی کال مرکز میں حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشل پارٹی نے ایک روز قبل کوئٹہ میں اپنے ایک جلسے پر ہونے والے بم حملے میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے طور پر دی تھی۔

دہشت گردی کے اس واقعے میں اے این پی کے صوبائی عہدیدار سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان ہلاکتوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہفتہ کو ہڑتال کے دوران دُکانیں بند کرانے کی کو شش میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں پر مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دس کارکنوں کو زخمی کر دیا، جن میں دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

ہڑتال کے باعث کوئٹہ کی تمام بڑی مارکیٹیں، کاروباری مراکز اور نجی ادارے بند رہے، شہر میں ٹر یفک بھی معمول سے کم رہی تاہم تمام تعلیمی ادارے کھلے رہے۔ صوبائی دارالحکومت کے نواحی علاقوں عالمو چوک ، خروٹ آباد ، پشتون آباد میں جزوی ہڑتال رہی۔

صوبے کے شمالی اضلاع ژوب ، پشین، لورالائی ، چمن ہر نائی، دُکی سنجاوی مو سیٰ خیل اور دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن رہا۔

کوئٹہ میں کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس ، فرنٹیئر کور ، انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی۔

اُدھر انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے وائس اف امر یکہ سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ روزانہ کی ہڑتالوں سے اُن کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے پر حملہ ایسے وقت میں ہوا جب عدالت عظمیٰ کے چیف چیف جسٹس صوبے میں امن وامان کی صورتحال اور لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کر رہے تھے اور اسی دن وزیراعظم راجہ پر ویز اشرف نے کوئٹہ کو دورہ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG