رسائی کے لنکس

بلوچستان میں ٹی بی کے مرض میں اضافہ: صوبائی عہدیدار

  • ستار کاکڑ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

بلوچستان میں انسداد ٹی بی پروگرام سے وابستہ ماہر ڈاکٹر نذیر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے ٹی بی کے بنیادی مرض کے علاوہ مدافعتی ٹی بی کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں تپ دق یعنی ٹی بی کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ اس بیماری سے متعلق لوگوں کی کم علمی یا پھر علاج کا مناسب انداز میں جاری نہ رکھنا ہے۔

بلوچستان میں انسداد ٹی بی پروگرام سے وابستہ ماہر ڈاکٹر نذیر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے ٹی بی کے بنیادی مرض کے علاوہ مدافعتی ٹی بی کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 2012 میں صرف 35 ٹی بی کے مریض آئے تھے جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 42 رہی اور اس سال اب تک 150 افراد اس مرض کے ساتھ ان کے ادارے سے رجوع کر چکے ہیں۔

اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹی بی کے مریض کی بد احتیاطی سے یہ مرض پھیلتا ہے۔

"جب ایک انسان کھانسی کرتا ہے تو اس سے 35 ہزار کے قریب جراثیم نکلتے ہیں پانچ منٹ وہ مریض بولتا ہے سانس لیتا ہے تو 35 سے 40 ہزار تک جراثیم نکلتے ہیں تو جس کمرے میں وہ ہوتا ہے وہاں اس کے بہت جراثیم ہوتے ہیں۔۔۔اگر کوئی مریض دوائی کھانا چھوڑ دیتا ہے تو اس کو مدافعتی ٹی بی ہو سکتی ہے۔ اگر اس کو چار گولیاں دی گئی ہیں اس کے وزن کے حساب سے اور وہ دو کھاتا یا پھر ٹی بی کے معالج کی بجائے عام ڈاکٹر سے علاج کرواتا ہے تو اس سے بھی مرض بڑھ سکتا ہے۔"

ڈاکٹر نذیر حسین نے بتایا کہ ٹی بی کا علاج ممکن ہے لیکن اس میں پابندی کے ساتھ دوا کا استعمال اور بتائے گئے دورانیے تک علاج جاری رکھنا از حد ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاج میں بد احتیاطی برتنے سے نہ صرف یہ مرض بڑھ جاتا ہے بلکہ اس کے علاج کی لاگت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان کے بقول مدافعتی ٹی بی کے مکمل علاج کے لیے ایک مریض پر آٹھ لاکھ روپے خرچ آتا ہے لیکن ان کا ادارہ ایک امدادی ادارے کے تعاون سے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔

"ان مریضوں کو ہم دوائی بھی مفت دیتے ہیں ان کے ٹیسٹ بھی مفت کرتے ہیں ہر مہینے چھ سو روپے کرایہ بھی ان کو ملتا ہے، ہر مہینے مریض کو بھی دو سے اڑھائی ہزار کا راشن کھلاتے ہیں اور جو مریض کو دوائی کھلاتے ہیں انھیں بھی دو سے اڑھائی ہزار کا راشن دیتے ہیں۔"

ڈاکٹر نذیر حسین کے بقول ٹی بی کا مرض سانس کے ذریعے پھیلتا اس لیے مریض اور اس کے تیمارداروں کو چاہیے کہ وہ منہ ڈھانپ کر رکھیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ جب بھی انھیں مسلسل تین ہفتوں تک کھانسی کرتا رہے اور ساتھ ہی ہلکا بخار بھی محسوس ہو تو وہ مستند معالج سے رجوع کر کے اپنا طبی معائنہ کروائیں۔

XS
SM
MD
LG