رسائی کے لنکس

بلوچستان میں تشدد کی تازہ لہر، 7 افراد ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے شورش زدہ بلوچستان صوبے میں جمعرات کی صبح تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک خاتون سمیت کم ازکم 7 افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موٹرسائیکل پرسوار حملہ آوروں نے ایک گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کرنے کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے۔ اس واقعہ میں تین افراد موقع پرہی ہلاک ہوگئے جبکہ دو زخمی اسپتال میں چل بسے۔

اسپینی روڈ سے گزرنے والی ایک سوزوکی پِک اَپ اس حملے کا ہدف تھی جس میں سوار افراد کا تعلق اقلیتی ہزارہ برادری سے بتایا گیا ہے۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی ہزارہ برادری کے ارکان نے اس کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج شروع کردیا جس سے شہر میں صورت حال کشیدہ ہوگی ہے۔ مظاہرین نے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔

ڈی آئی جی پولیس شوکت خان نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ تشدد کی واردات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لئے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے ۔

تشدد کا دوسرا واقعہ کوئٹہ کے جنوب میں تقریباً 50 کلومیٹردورضلع مستونگ میں صُبح سویرے اُس وقت پیش آیا جب نا معلوم موٹر سائیکل سواراقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم کی گاڑی پرجدید ہتھیاروں سے فائرنگ کروہاں سے فرارہوگئے۔

اس حملے میں تنظیم کے دوافسران ہلاک ہوگئے جبکہ زخمیوں کو سول اسپتال مستونگ منتقل کر دیا گیا ہے ۔

مقامی پولیس انسپکٹر رستم خان نے بتایا کہ مرنے والے افسران حبیب اللہ اور محمد زاہد کا تعلق کو ئٹہ سے جب کہ ڈرائیور کا تعلق مستونگ سے ہے ۔

XS
SM
MD
LG