رسائی کے لنکس

2010 میں بھی بلوچستان تشدد کی لپیٹ میں رہا

  • ستار کاکڑ

2010 میں بھی بلوچستان تشدد کی لپیٹ میں رہا

2010 میں بھی بلوچستان تشدد کی لپیٹ میں رہا

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبرحسین دُرانی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 2010ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران آباد کاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے اور ان کے گھروں پر حملوں کے واقعات جاری رہے لیکن بقیہ عرصے میں یہ سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ۔

رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا وسیع ترین لیکن سب سے کم آبادی والا صوبہ بلوچستان 2010ء میں بھی شورش کی زد میں رہا اور قوم پرست باغیوں سمیت عسکریت پسند عناصر نے سکیورٹی فورسز، آباد کاروں اور بنیادی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ 2009ء کے مقابلے میں رواں سال امن و امان کی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں رواں سال تشدد کے تقریباً 425 واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 315 سے زائد افراد ہلاک اور لگ بھگ 700 زخمی ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال 467 واقعات میں 333 افراد ہلاک اور 1,000 سے زائد زخمی ہوئے۔

2010ء میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ حملوں ، ہدف بنا کر قتل اور دوسرے واقعات میں مارے جانے والوں میں 113 آباد کار، 82 پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار اور بیسیوں عام شہری شامل تھے۔ شدت پسندوں نے پانچ اساتذہ کو بھی نشانہ بنایا۔

بلوچستان کے نو اضلاع میں افغانستان میں طالبان کے خلاف بر سر پیکار نیٹو افواج کے لیے ایندھن لے جانے والے آئل ٹینکر ز پر 56 حملے کئے گئے جن میں 34 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے جب کہ 136 ٹینکرز بھی جل کر تباہ ہو گئے ۔

اس ہی طر ح صوبے بھر سے 117 افراد لاپتہ ہوئے جن میں سے 25 کو بازیاب کرا لیا گیااور 35افراد کے نام مکمل کوائف نا ہونے کے باعث فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ ساٹھ افراد کی تلاش کی جارہی ہے۔

2010 میں بھی بلوچستان تشدد کی لپیٹ میں رہا

2010 میں بھی بلوچستان تشدد کی لپیٹ میں رہا

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبرحسین دُرانی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 2010ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران آباد کاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے اور ان کے گھروں پر حملوں کے واقعات جاری رہے لیکن بقیہ عرصے میں یہ سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ صوبے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں مقامی گروہوں کے ساتھ بعض مشتبہ طور پر افغان مہاجر ین کے گروہ بھی ملوث ہیں۔ یہ عناصر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگراضلاع کے علاوہ پاک افغان سر حد پر بھی وارداتیں کر تے ہیں ۔

اکبرحسین دُرانی نے بتایا کہ ان وارداتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات ہیں جس سے صوبہ بُر ی طر ح متاثر ہوا ہے۔ ”یہ مسئلہ اب صوبائی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے، اس سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت نے پالیسی تیار کر لی ہے اور اگر اس پر عمل کیا گیا توآئندہ چھ ماہ میں تمام شعبوں میں بہتر ی آئے گی ۔“

رواں سال میں حالات میں نسبتاً بہتری کے اسباب بتاتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس کی وجوہات وفاقی حکومت کی طر ف سے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ بڑھانا ،آغازحقوق بلوچستان کے تحت فوج اور سرکاری اداروں میں مقامی افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہیں۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں آباد اقلیتوں کو وہی حقوق حاصل ہیں جو اکثریت رکھنے والے مسلمانوں کے ہیں۔

بلوچستان کی حکومت نے ہندوتاجروں کے اغوا کے حالیہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں کہیں بھی ہندو ، عیسائی ، سکھ رہتے یا کاروبار کر تے ہوں اس علاقے کی سیکورٹی بڑھائی جائے۔ اقلیتی برادری کے لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے اگر وہ اسلحہ یا گارڈز رکھنا چاہیں تو حکومت اُنھیں اسلحہ کا لائسنس بھی دے گی ۔

XS
SM
MD
LG