رسائی کے لنکس

بلوچستان: تشدد کے مختلف واقعات میں سات ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

صادق آباد جانے والی بس کو مسلح افراد نے گیتانی کے مقام پر زبردستی روکا اور مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کرنے کے بعد صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سمیت پانچ افراد کو زبردستی گاڑی سے اُتار لیا۔

بلوچستان میں لیویز حکام کے مطابق تشدد کا ایک واقعہ جمعہ کی صبح ضلع بولان کے سنی نامی علاقے میں پیش آیا جہاں ایک موٹر سائیکل بارود ی سُرنگ سے ٹکرا گیا اور دھماکے سے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد مو قع پر ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل ضلع بولان ہی میں جمعرات کو رات گئے کوئٹہ سے صادق آباد اور لاہور جانے والی مسافر کو گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ، لاہور جانے والی مسافر گاڑی تو بچ نکلنے میں کامیاب رہی لیکن صادق آباد جانے والی بس کو مسلح افراد نے گیتانی کے مقام پر زبردستی روکا اور مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کرنے کے بعد صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سمیت پانچ افراد کو زبردستی گاڑی سے اُتار لیا۔

مسلح افراد ان پانچ مسافروں کو زبردستی اپنے ہمراہ لے جانا چاہتے تھے تاہم مزاحمت پر اُنھوں فائرنگ کر دی جس سے تین افراد مو قع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

دیگر دو افراد کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر کے اُن کی لاشیں ویرانے میں پھینک دیں گئیں جنہیں جمعہ کی صبح لیویز حکام نے برآمد کیا۔ فائرنگ کی زد میں آنے والے ایک ٹرک کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا۔

واقعات کی ذمہ دار ی تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ضلع بولان میں اس سے پہلے صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام اور پولیس افسران پر ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔

قدرتی وسائل سے مالامال صوبے کے مشر قی اضلاع سے گزرنے والے درہ بولان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کے لیے جانے والی ریل گاڑیوں اور بسوں کو اس سے پہلے بھی شدت پسندوں کی طرف سے نشانہ بنا یا جاتارہا ہے۔

اُدھر لیویز حکام نے بتایا ہے کہ آوران ضلع سے نامعلوم مسلح افراد نے لیویز اہلکاروں سمیت چھ افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ ضلعی حکام نے ان افراد کے لیے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی ہے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کے لئے ایک سر یع الحرکت فورس تشکیل دے دی گئی ہے اور اس کے علاوہ خفیہ اداروں کے درمیان نیٹ ورک کو مر بوط اور منظم بھی کیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG