رسائی کے لنکس

بلوچستان: سیاسی رہنماء کے قافلے پر حملہ، چار ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی سربراہ ثناء اللہ زہری خود تو اس حملے میں محفوظ رہے لیکن ان کا بیٹا، بھائی اور بھتیجا جانبر نہ ہو سکے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر ثناء اللہ زہری کے قافلے پر ہونے والے بم حملے میں ان کے بیٹے سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔

لیویز حکام کے مطابق مسلم لیگ ن بلوچستان کے صوبائی صدر سردار ثناءاللہ زہری اپنے چھوٹے بھائی اور بلوچستان اسمبلی کے ایک حلقے سے اُمیدوار میر مہر اللہ زہری کے ہمراہ ضلع خضدار کے مختلف علاقوں میں آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم میں مصروف تھے کہ اُن کی گاڑیوں کے قافلے کو بم سے نشانہ بنایا گیا۔

مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ ایک جلسے سے خطاب کے بعد جب ثنا اللہ زہری کا قافلہ کٹھہ پُل کے قر یب پہنچا تو سڑک کے کنارے نصب بم میں ریموٹ کنڑول سے دھماکا کیا گیا ۔

دھماکے سے مہر اللہ ، سردار ثنا ءاللہ زہری کا بیٹا سر دار زادہ سکندر ، بھتیجا میر زیب اور ڈرائیور مو قع پر ہلاک ہو گئے جب کہ ثنا ءاللہ کے نجی محافظوں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر خضدار منتقل کر دیا گیا ۔

ثنا ءاللہ زہری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 269 ، اور بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 33 سے مسلم لیگ ن کے اُمیدوار ہیں وہ 2008 کے عام انتخابات میں اپنی نشست پر کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے تھے بعد میں اُن کو مسلم لیگ ن بلوچستان کا صدر مقرر کر دیا گیا تھا ۔

بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے رہنماﺅں سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ عام انتخابات سے پہلے صوبے میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے اور حکومت کو اس بارے میں مناسب اقدامات کرنے چاہیں۔

بلوچستان میں نگراں حکومت کے قیام کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع خاران ، خضدار ، پنجگور واشک اور دیگر شہر وں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر پربھی حملے کیے جاچکے ہیں اور گزشتہ ماہ کو ئٹہ میں ضلعی الیکشن کمشنر ضیاءاللہ کو ایک حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔

نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے صوبہ بلوچستان میں امن و امان بحال کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ اس سے پہلے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے صوبے کا دورہ کرکے بلوچوں سے ان انتخابات میں بھرپور شرکت کی درخواست کی تھی۔
XS
SM
MD
LG