رسائی کے لنکس

مقدمے کی سماعت کے موقع پر درجنوں مظاہرین نے گرے کے لئے انصاف کی حمایت میں ایک پرامن مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین پولیس ہیڈکوارٹر اور عدالت کے باہر کافی دیر موجود رہے

امریکی شہر بالٹی مور کے ایک جج نے 6 پولیس اہل کاروں پر حراست کے دوران سیاہ فام نوجوان فریڈی گرے کو ہلاک کرنے کا الزام واپس لینے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

بالٹی مور کا یہ 25 سالہ افریقی امریکی نوجوان پولیس حراست میں ریڑھ کی ہڈی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔

پولیس افسران کے خلاف لاپراوہی کے نتیجے میں غیر ارادی قتل کے الزام میں مقدمہ درج ہے، جبکہ ان 6 میں سے ایک پولیس افسر وین ڈرائیور کے خلاف قتل عمد کا اضافی مقدمہ بھی درج ہے کہ جس نے مرنے والے نوجوان گرے کے زخم بھی دیکھے تھے، لیکن احتیاط نہیں برتی۔

تمام ملزمان نے قصور تسلم کرنے سے انکار کیا۔ ان میں سے نصف پولیس افسران کے خلاف سیاہ فام کے ساتھ امتیازی سلوک کا مقدمہ درج ہے، جبکہ مظاہرین کا مؤقف بھی یہی تھا کہ پولیس سیاہ فام امریکیوں کے خلاف بے رحمانہ انداز اختیار کرتی ہے۔

اس مقدمے میں جج نے ریاستی اٹارنی میرلین موسبے اور دیگر استغاثہ کو مقدمے سے ہٹانے آئنی درخواست بھی مسترد کردی۔

وکلا دفاع نے دلیل دی ہے کہ اٹارنی جنرل موسبے نے یکم مئی کو کھلے عام نیوز کانفرنس میں الزامات عائد کرکے مقدمے کی شفاف سماعت کی خلاف ورزی کی ہے۔

مقدمے کی سماعت کے موقع پر درجنوں مظاہرین نے گرے کے لئے انصاف کی حمایت میں ایک پرامن مظاہرہ بھی کیا، مظاہرین پولیس ہیڈکوارٹر اور عدالت کے باہر کافی دیر موجود رہے۔

فریڈی گرے کو 12 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے دوران اس کی ریڑھ کی ہڈی میں زخم آئے تھے وہ ایک ہفتے تک اسپتال میں زیر اعلاج رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ گرے کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر چھرے رکھنے کا الزام بھی متنازعہ ہے۔

پولیس حراست میں گرے کے انتقال سے بالٹی مور پولیس اور سیاہ فام اہل محلہ کے درمیان تناؤ پھوٹ پڑا تھا، جس کے دوران، ہنگامے لوٹ مار شروع ہوگئے تھے اور سینکڑوں کاروبار تباہ ہوئے، جس کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG