رسائی کے لنکس

جمہوری جدوجہد سے حقوق حاصل کیے جاسکتے ہیں: بلوچ رہنما


فائل

فائل

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ناراض قوم پرستوں سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ’توقع ہے کہ انھیں اپنی غلطیوں کا جلد احساس ہوگا اور وہ دوبارہ جمہوری عمل کا حصہ بنیں گے، کیونکہ پاکستانی آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب جمہوری عمل سے ہی حقوق حاصل کئے جاسکتے ہیں‘

بلوچستان کابینہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ پاکستانی آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے میں مسلح جدوجہد کی ضرورت نہیں رہی، ’تمام حقوق آئینی حدود میں رہتے ہوئے حاصل کئے جاسکتے ہیں‘۔

’وائس اف امریکہ‘ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں میزبان نفیسہ ہود بھوائی سے بات چیت کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اطلاعات عبدالرحیم زیارت وال کا کہنا تھا کہ صوبے کی ترقی کا دارومدار امن و امان کی صورتحال پر ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ناراض قوم پرستوں سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ’توقع ہے کہ انھیں اپنی غلطیوں کا جلد احساس ہوگا اور وہ دوبارہ جمہوری عمل کا حصہ بنیں گے، کیونکہ پاکستانی آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب جمہوری عمل سے ہی حقوق حاصل کئے جاسکتے ہیں‘۔

تقریب میں شریک صوبائی وزیر زراعت اسلم بزنجو کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت وفاق کی مدد سے صوبے میں زراعت کی ترقی کے لئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ صرف خضدار میں صورتحال میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

اسلم بزنجو نے کہا ہے کہ امن و امان حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ بقول اُن کے، ’توقع ہے کہ پہاڑوں پر جانے والے جلد لوٹ آئیں گے‘۔

اسی پروگرام میں چین میں حالیہ معاشی رفتار میں کمی کے پاک چین اقتصادی راہداری پر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے، ممتاز معاشی تجزیہ نگار ظفر موتی کا کہنا تھا کہ اس کی توقع تھی۔ تاہم، اقتصادی راہداری پر اس کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے، کیونکہ چین کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور 48 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خود چین کے مفاد میں بھی ہے۔

انھوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اس راہداری کی ضرورت پاکستان سے زیادہ چین کو ہے، اس لئے، چینی رہنماء کسی صورت اس منصوبے کو التواء میں نہیں ڈالیں گے۔

XS
SM
MD
LG