رسائی کے لنکس

حقوق انسانی کمیشن، ایچ آر سی پی، کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں فرقہ ورانہ تشدد بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اب اس پر لگام ڈالنا بھی نہایت مشکل کام ہوتا جا رہا ہے

بلوچستان ، رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ قدرتی وسائل خاص کر گیس کے ذخائر سے مالامال اس صوبے میں پاکستان کے باقی تینوں صوبوں کی طرح مختلف نسل ، مذہب اور فرقے کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں لیکن حقوق انسانی کمیشن کی حال ہی میں جاری کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سن 2009ء سے یہ خطہ زمین کچھ مخصوص فرقوں اور خاص کر غیر بلوچ قوموں کے لئے تنگ پڑرہا ہے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں فرقہ ورانہ تشدد بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اب اس پر لگام ڈالنا بھی نہایت مشکل کام ہوتاجارہا ہے ۔صوبے میں غیر بلوچ قومیں سالہاسال سے آباد تھیں لیکن اب انہیں مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کوئٹہ اور اس کے مضافات میں غیر بلوچ قوموں کے انگنت مکانات اور جائیدادیں تھیں لیکن اب زیادہ تر پریا تو بھاری بھرکم تالے پڑے ہیں یا انہیں ان کے مکنیوں نے راتوں رات اونے پونے بیچ دیا ہے۔ ان مکانوں کے مالکان دوسرے صوبوں کو نقل مکانی کرگئے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی جان کا خطرہ تھا۔

زیادہ تر مکانات صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کے تھے جو یہاں سالہاسال سے آباد تھے۔ خالی مکانات کے پڑوس میں رہنے والے ایک لڑکے نے اپنا نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس مکان میں رہنے والے لوگ بہت اچھے تھے اوربرسوں سے ہمارا اور ان کا ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا مگر اب بلوچستان دوسرے صوبوں کے رہنے والوں کے لئے محفوظ جگہ نہیں رہا۔

حال ہی میں ایک حکومتی رکن نے ایوان بالایعنی سینٹ کو بتایا تھا کہ بلوچستان میں غیر بلوچیوں کے ساتھ تشدد میں سن 2010ء سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حقوق انسانی کمیشن کے مطابق اب تک ہزاروں افراد بلوچستان سے دوسرے صوبوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آبادکاروں کے کم از کم 2000بچے سن 2011سے اب تک اسکولوں سے اپنا نام کٹواچکے ہیں۔

بلوچستان کی تقریباً نصف آبادی یعنی 78لاکھ لوگ غیر بلوچی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں جو عمومی طور پر کوئٹہ یا ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پختونوں کی اکثریت آبادہے۔

صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے خاور جھنڈرو جو نسلاً سندھی ہیں، انہوں نے یورپی یونین کے تحت چلنے والے خبررساں ادارے آئی آر آئی این نیوزکو بتایا کہ ان کے اہل خانہ اور آباوٴاجداد سن 1930ء سے کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں اور یہیں ان کا واحد گھر ہے لیکن غیر بلوچ اقوام کے لئے یہاں خطرات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

خاور پیشے سے اسکول ٹیچر ہیں ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ پہلے ہی کراچی منتقل ہوچکے ہیں ۔ ”میرے بچے یہاں غیر محفوظ تھے۔ ان سے اسکولوں تک میں ان کی نسل کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا۔“

کوئٹہ کے رہائشی ،پیشہ وار وکیل اور حقوق انسانی کے کارکن طاہر حسین بلوچ کے مطابق ”اصل مسئلہ اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والے قوم پرست بلوچیوں سے منسلک ہے ۔ ان کی قوم پرستانہ جدوجہد 1950ء میں ہی شروع ہوگئی تھی لیکن اس میں تیزی آئی سن 2006ء میں جب قوم پرست راہنما نواب اکبر بگٹی کو ایک فوجی آپریشن میں قتل کردیا گیا۔

حال ہی میں بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان ”بلوچ بلوچ “نے یورپین خبررساں ادارے آئی آر آئی این سے ٹیلی فون پر گفتگوکے دوران بتایا کہ ہم ’بلوچستان،بلوچیوں کا ہونا چاہئے‘کی تھیوری پر یقین رکھتے ہیں ۔ہم اس پر دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے لوگوں کا کوئی حق تسلیم نہیں کرتے۔ وفاقی حکومت کی مدد سے ہمارے وسائل صوبہ پنجاب کو کیوں منتقل کئے جارہے ہیں، اس پر ہمیں اعتراض ہے ۔ ہمارے وسائل ہم پر ہی خرچ ہونے چاہیئں۔ “

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ بلوچیوں کی اصل شکایت یہ ہے کہ صوبے کو وسائل رکھنے کے باوجود اس کا حق نہیں مل رہا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان کی شرح خواندگی باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے یعنی صرف 30فیصد۔

جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کے واقعات پر تحقیقات کرنے والے ادارے” ساوٴتھ ایشیاء ٹیرررازم پورٹل “کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ سال یعنی 2011ء میں 711افراد کو قتل کیا گیا ۔ ان 711 افراد میں عام شہری، قوم پرست عسکریت پسند اور سیکورٹی اہلکار شامل تھے جبکہ اس سے پچھلےسال یعنی 2010ء میں 347افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر ایچ آر سی پی کے مطابق 2012 میں اب تک 57افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہوں صوبے کے مختلف مختلف علاقوں سے اغوا کیاگیا تھا۔ان پر پہلے تشدد کیا گیا اور بعد میں انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ہزارہ کمیونٹی

فرقہ ورانہ تشدد میں ہزارہ کمیونٹی کو بھی نشانہ بنایارہا ہے ۔ یہ کمیونٹی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتی ہے اور تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں شمار ہوتی ہے۔ بلوچستان کی ہزارہ برادری کے سربراہ سردار سعادت علی کے مطابق انتہاپسند صرف فرقے بنیاد پر انہیں نشانہ بنارہے ہیں۔

خود بلوچ بھی نشانے پر

بلوچ قوم پرست خود بھی نشانے پر ہیں۔درجنوں بلوچ لاپتہ ہیں۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں سرکاری ریکارڈز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سن 2000 سے198افراد لاپتہ ہیں جبکہ ”بلوچ بلوچ“ کاکہنا ہے کہ ان کے کم از کم 500افرادلاپتہ ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایف سی یعنی فرنٹیئر کانسٹیبلری لاپتہ افراد کے پیچھے ہے ۔ ایف سی ایک پیراملٹری آرگنایشن ہے جو پاکستان فوج کی زیر نگرانی کام کرتی ہے۔۔

مرکزی حکومت کو تشویش لاحق ہے کہ ان کا بلوچستان کے خطے پر سے کنٹرول ختم ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں، بلوچستان میں امن و امان سے متعلق ایک مقدمہ چل رہا ہے ۔ یہ مقدمہ ایک غیرسرکاری تنظیم اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل آئی اے رحمن کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے امور میں سول رول بالکل ہی معذور ہوکر رہ گیا ہے جبکہ فوج صوبائی امور میں اکثر مداخلت کا باعث بنتی ہے۔ بلوچستان کے صوبائی معاملات میں فوجی مداخلت کی طویل تاریخ موجود ہے یہ لوگ خودمختاری کے لئے 1950سے سرگرم عمل ہیں اور تبھی سے صوبائی معاملات میں فوجی مداخلت بھی جاری ہے ۔

رپورٹ کے مطابق اس انتظامی بدنظمی کا نتیجہ ”خوف “کی صورت میں برآمد ہورہا ہے جس سے بلوچستان بھر کے ہزاروں افرادبری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ اس حوالے سے تین بچوں کی ماں اور بلوچ قبیلے سے تعلق رکھنے والی شائستہ بی بی کا کہنا ہے کہ چار پانچ بجے کے بعد گھر سے نکلنا انتہائی غیر محفوظ ہے۔ اس وقت کے بعد میں اپنے کالج جانے والی عمر کے بیٹوں کو گھر سے نہیں نکلنے دیتی ۔سوائے پڑھائی کے انہیں ویسے بھی میں کہیں جانے آنے کی اجازت نہیں ۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں انہیں قوم پرست سمجھ کر نہ’ اٹھا‘لیا جائے یا وہ خدانہ خواستہ کسی دہشت گردی کا شکار نہ ہوجائیں ۔

ایک اورتیس سالہ پختون خاتون امیرہ گل کو بھی اسی قسم کے خوف کا سامنا ہے ۔ وہ کہتی ہیں ہم لوگ جلد ہی یہاں سے کسی اور جگہ چلے جائیں گے۔ میرے چار جوان بچوں کے لئے اب یہ جگہ محفوظ نہیں رہی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج سے دس سال پہلے وہ لوگ صوبہ خیبر پختونخواہ سے بلوچستان منتقل ہوئے تھے لیکن اب ان کے اہل خانہ جلد از جلد یہاں سے واپس جانے کی تیاریوں میں ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG