رسائی کے لنکس

بلوچستان: مبینہ طور پر اسکولوں میں قومی پرچم لہرانا مشکل ہوتا جا رہا ہے


'ورڈسمتھس اینڈ لسنرز' کی جانب سےامریکی محکمہ خارجہ کے'انٹرنیشنل وزیٹر ایکسچینج پروگرام' کے تحت اِن دِنوں امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ پیر کی شام ورجینیا کے ایک مقامی ریستوران میں تفصیلی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں باہمی معاملات، عام رہن سہن، پاکستان سے متعلق حالات حاضرہ اور عام دلچسپی کے مختلف پہلووں پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

نشست کے آغاز میں مہمان شرکا نےاپنے خیالات کا اظہار کیا اور بعد ازاں صحافی حضرات اور دانش وروں کے سوالات کے جواب دیے۔

بلوچستان کے حالات سے متعلق آگاہی دیتے ہوئے، 'دی نیوز' کراچی کے نمائندے، ساجد حسین بلوچ کا کہنا تھا صوبے کے حالات کئی اعتبار سے 'دگرگوں' ہیں، جس میں لاقانونیت، لاپتا افراد کا معاملہ، قتل و غارت، دہشت گردی اور آئے دن کے فسادات شامل ہیں۔اُنھوں نے بتایا کہ اب تک 'آغاز حقوق بلوچستان' کے حکومتی اقدامات کا عام سطح پر بہتری کی صورت میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا، جس کے باعث، اُن کے بقول،'مایوسی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے'۔ دوسری طرف، صوبے کے ’غیر تسلی بخش حالات اور لاقانونیت‘ کا فائدہ ’قدرتی طور پر‘علیحدگی پسند عناصر کی ’مخصوص فکر‘ کو پہنچ رہا ہے۔

اس ضمن میں اُنھوں نے 'قدیر بلوچ کا بیٹا' کے عنوان سے کالم نگار و مصنف محمد حنیف کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئےدعویٰ کیا کہ مکران اور تربت کاعلاقہ جو کسی سردار کی جاگیر نہیں ہے، وہاں بھی آئے دن لوگ اغوا اور قتل ہو رہے ہیں جس کے باعث، اُن کے بقول،'بدلہ لینےکا جذبہ بڑھ رہا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں، ساجد بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبے کے حالات کو درست کرنا 'ناممکن نہ سہی، لیکن مشکل ضرور ہے'۔

اُنھوں نے کہا کہ ’روزگار کے چند مواقع‘ فراہم کرکے مسئلے کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں رہا، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ 'لاپتا ہونے اور لاشیں ملنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچی اوربراہوی زبانیں بولنے والے ’درحقیقت ایک ہی ہیں‘، اُنھیں الگ شناخت کرکے پیش کرنا درست نہیں، جب کہ صوبے میں پختون آبادی کی تعداد نسبتاً کم ہے، اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ’مبالغہ آرائی ہے‘۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ، 'ہرخاندان کا یا تو کوئی فرد لاپتا ہے یا مارا جاچکا ہے۔ نفرت کا عنصربڑھ رہا ہے، اورکئی مقامات پر، اسکولوں میں اور قومی ترانے کی جگہ بلوچ قوم پرستی کا گن گانے والے بلوچی ترانے نے لے لی ہے۔'

سوات کے حالات کے بارے میں مالاکنڈ سے جیو کے بیورو چیف، محبوب علی نے بتایا کہ پاراچنار میں فساد یا بچیوں کے اسکولوں پر حملوں کا معاملہ، اس میں کمی ضرور آئی ہے لیکن یہ یکسر ختم نہیں ہوئے۔

فاٹا میں شدت پسندی کے معاملے پر اظہار خیال میں، اعظم خان نے، جن کا تعلق 'فاٹا رسرچ سینٹر' اسلام آباد سے ہے، کہا کہ 2008ء اور 2009ء میں جو حالات تھے اور جو غلطیاں سرزد ہوئی تھیں، اُن کی یاد لوگوں کے دلوں میں اب بھی باقی ہے۔

اعظم خان نے بتایا کہ ایک انتہا یہ تھی کہ شدت پسند بچیوں کے اسکولوں پرحملے کیا کرتے تھے، جب کہ اب دوسری انتہا یہ ہے کہ موسیقی اور فیشن کے نام پر کچھ خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں، اُن کے بقول، ’بےانتہا آزاد خیالی‘ کا مظاہرہ کیا گیا۔ اُن کے الفاظ میں، سوات کے لوگ اعتدال پسندی کے خیالات کے داعی اور حامی ہیں، اور وہ کسی طرح کی انتہا اور شدت پسندی کو قبول نہیں کرتے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ منگورہ میں لاشیں گرنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، اور حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن حالات مکمل طور پرمعمول پر آنے میں دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے بچوں پر منفی نفسیاتی اثرات پڑنے کا ذکر کیا، جن کے باعث، اُن کے بقول، وہاں کی معاشرت میں 'غلط اور منفی رویے' جنم لے رہے ہیں۔

سندھ ٹی وی نیوز'، کراچی کے تعلق رکھنے والے مشتاق سرکی نے سندھ کے حالات بیان کرتے ہوئے صوبائی دارلحکومت کے حالات کو'غیر تسلی بخش' قرار دیا۔ اُن کے بقول، مختلف وجوہ کی بنا پر، جس میں مبینہ طور پرسیاسی دباؤ کا عنصر شامل ہے، میڈیا حالات کی درست تصویر کشی کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

اُن کے بقول، کراچی میں بھتہ خوری اور لاقانونیت کے باعث عام 'زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے'، جب کہ آزاد صوبے کےخیالات کے حامی اور قوم پرست شہری اور دیہی علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔

اخبار 'ایکسپریس' کی رپورٹر، عمرانہ ساغر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ‘رجعت پسندی اور تبدیلی کے حامی‘ اپنی اپنی تگ و دو میں مگن ہیں، جب کہ جنوب میں سرائیکی صوبے کی تحریک کے لیے 'سیاست کی دکان' چمکائی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 'سونامی کے نام پرنوے دن میں تبدیلی' لانے کی علمبردار ہو کر سامنے آئی ہے، جب کہ، عام طور پراس سے'نعرہ زیادہ اور انقلابی کام کم' کا تاثر ملتا ہے۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے مخدوم جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تحریک انصاف میں شامل تو ضرور ہوئے ہیں، لیکن، اُن کے بقول، 'ان کا انداز جدا جدا ہے'۔

قوم پرستوں اور انقلابیوں کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ مارکس کی کتابیں لے کر چلنے والے، 'عملی خیالات سےعاری اورخوش فہمی کا شکار لگتے ہیں'۔ اُن کے بقول، 'شاید، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انقلاب بغیر جستجو کے، بیٹھے بٹھائے برپا ہو جاتا ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں ساجد بلوچ نے کہا کہ جہاں عام بلوچ آبادی بے روزگاری اور غربت میں الجھا ہوا ہے، وہاں لاپتا افراد کا معاملہ ’زور پکڑتا جا رہا ہے‘۔ اُن کے بقول، اب تک لاپتا افرد کی 350لاشیں مل چکی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG