رسائی کے لنکس

بلوچستان میں امریکی سفارتی گاڑیوں اور عملے کو ہراساں کیے جانے پر امریکہ کی تشویش

  • نصیر کاکڑ

Mashkel, Baluchistan

Mashkel, Baluchistan


امریکی سفارت خانے نے چھ جنوری کوبلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جِس میں امریکی قونصل خانےکی گاڑی اور اُس میں سوار دو پاکستانی اہل کاروں کو دورانِ سفر حراست میں لیا گیا۔

جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جب پولیس نے اُنھیں گرفتار کیا گاڑی میں سوار دونوں اہل کار پسماندہ علاقوں کے لیے امریکی ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے تیاریوں میں مصروف تھے۔

اِس واقعے کے بارے میں بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ظفر اللہ زہری نے جمعرات کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے سرکاری موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اِن حالات میں جو بھی صوبے میں آتا ہے اُس پر چوکسی لگائی جاتی ہے کہ کون آرہا ہے کون جارہا ہے۔

صوبائی وزیرِ داخلہ نےبتایا کہ گاڑی پرجعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی جِس پر سوار لوگ گوادر آئے اور ایک دِن ٹھہرنے کے بعد تربت کی طرف چلے گئے تھے، جنھیں گرفتار کیا گیا۔ ‘ ہماری پولیس پارٹی نے اُنھیں پکڑا اورتصدیق کی کہ وہ پاکستانی تھے اور گاڑی قونصل خانے کی تھی۔ ہم نے روکا اور اپنی تفتیش کی۔’

امریکی سفارت خانے کے بیان میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں تمام امریکی گاڑیاں مقامی حکام کے پاس اندراج شدہ ہیں اور مکمل دستاویزات کے ساتھ سفر کرتی ہیں۔

دریں اثنا، امریکی سفیر این پیٹرسن نے جمعرات کو ایک تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکی سفارت کار اور اُن کا عملہ حکومتِ پاکستان کے ضوابط کی پاسداری کریں گے لیکن پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ابھی تک طے شدہ طریقہٴ کار پر عمل نہیں کیا۔

اُنھوں نے اِس مطالبے کو دہرایا کہ امریکی مشن کی گاڑیوں کو لائسنز نمبر پلیٹوں کے اجرا کے لیے فوری عمل کیا جائے اور اُن گاڑیوں اور اُن میں سوار اہل کاروں کو من گھڑت واقعات میں ملوث کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG