رسائی کے لنکس

چیف سیکرٹری بلوچستان نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ صوبے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحویل میں کوئی لاپتا شخص نہیں ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں جمعہ کو بلوچستان کے چیف سیکرٹری نے وفاق اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ صوبے میں خفیہ اداروں کا کوئی ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو صوبائی چیف سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد نے کہا کہ جمعرات کو بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل کے سپریم کورٹ میں بیان کے بعد صوبے کے حالات کے بارے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر نگرانی ایک اہم اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

اُنھوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ وضاحت کی گئی کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔

بلوچستان کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اعظم خان خٹک نے رپورٹ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز کے موقف کے بارے میں وائس آف امریکہ کو بتاتے ہوئے کہا کہ لاپتا افراد ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

’’وہ (انٹیلی جنس ایجنسیاں) کہہ رہی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسا بندہ نہیں ہے یا ڈیتھ اسکواڈ نہیں ہے۔ اب اگر کوئی یونیفارم میں آ جائے، ایف سی یونیفارم میں یا کسی اور کی وردری پہن کر آ جائے تو آپ اس کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ واقعی اس (خفیہ اداروں یا ایف سی) کا بندہ ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کو لاپتا افراد اور صوبے میں امن و امان سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا اور مقدمے کی آئندہ سماعت اب 8 اکتوبر کو ہو گی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی بلوچستان کے مسئلے کےحل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ (فائل فوٹو)



بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل جمعرات کو بطور معاون سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ صوبے کو درپیش گھمبیر مسائل کے حل کے لیے بامعنی کوششوں کے آغاز سے قبل ضروری ہے کہ وہاں پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی زیر نگرانی کام کرنے والے ’’ڈیتھ اسکواڈز‘‘ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

بلوچستان میں بدامنی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے کچھ ہی دیر بعد حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے اختر مینگل سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

بعد ازاں نواز شریف کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں اختر مینگل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں انھوں نے صوبے میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے جو تجاویز پیش کیں اگر ان پر عمل درآمد نا کیا گیا تو پھر بلوچستان کے لوگ حکومت سے کسی طور پر مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

’’ہم نے کبھی اکٹھے چلنے سے انکار نہیں کیا تھا، لیکن ہمیں ساتھ لے جایا ہی نہیں جا رہا ہے۔ آپ کسی کو ہاتھ پکڑ کر ساتھ لے جاتے ہیں، پیر سے پکڑ کر گھسیٹنا ساتھ لے جانا نہیں ہوتا۔‘‘

نواز شریف نے کہا کہ ان حقائق کا جاننا نہایت ضروری ہے جس کی وجہ بلوچ عوام مایوسی کا شکار ہیں۔

’’وہ کون سی زیادتیاں، مظالم اور حالات ہیں جنہوں نے ان (بلوچ عوام) کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ آج ہم سب ایک عجیب کشمکش کا شکار ہیں کہ کس طرح بلوچستان کے زخموں پر مرحم لگائیں۔‘‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG