رسائی کے لنکس

بلوچستان میں آئینی بحران کا تاثر درست نہیں، حکومت


رحمٰن ملک (فائل فوٹو)

رحمٰن ملک (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے وزارت داخلہ کے تحریری بیان میں کہا گیا کہ صوبے کی سیاسی انتظامیہ اور دیگر سرکاری ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور وہاں کوئی آئینی بحران نہیں۔

بلوچستان میں بدامنی سے متعلق زیر سماعت مقدمے میں جمعہ کو وزارت داخلہ نے ایک تحریری رپورٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ صوبے کی سیاسی انتظامیہ اور دیگر سرکاری ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور وہاں کوئی آئینی بحران نہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ نے بارہ اکتوبر کو جاری کردہ اپنے حکم میں امن و امان کی خراب صورت حال بہتر کرنے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکامی سمیت دیگر وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت حکمرانی کا قانونی اور اخلاقی جواز کھو بیٹھی ہے۔

ایک روز قبل بلوچستان کی اسمبلی کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی نے وزیراعلیٰ اسلم ریئسانی کے کہنے کے باوجود صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایسا اقدام ’توہین عدالت‘ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

لیکن جمعہ کو جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو صوبائی و وفاقی حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے وزیراعلیٰ نواب اسلم ریئسانی اور وزیر داخلہ رحمٰن ملک بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران رحمٰن ملک نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے تحت وفاقی حکومت امن و امان اور دیگر مسائل سے نمٹنے میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن معاونت کر رہی ہے۔

قانونی دشواریوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکومت کے نمائندوں نے عدالت سے بارہ اکتوبر کا عبوری حکم نامہ واپس لینے کی درخواست بھی کی مگر چیف جسٹس افتخار چودھری نے اسے مسترد کردیا۔

بعد ازاں مقدمے کی آئندہ سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
XS
SM
MD
LG