رسائی کے لنکس

دور دراز علاقوں میں کام کرنے و الی نرسوں کی حفاظت اور رہائش کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے کو ئی انتظام نہیں ہے اور اسپتالوں میں مریضوں سے منتقل ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کا بھی بندوبست موجود نہیں۔

ستار کاکٹر

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے سر کاری اسپتال میں مر یضوں کی تیمارداری کر نے و الی نر سوں نے اسپتالوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ خطرنا ک بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تیمارداری کرنے والی دو نرسیں جراثيم منتقل ہونے سے ہلاک ہو چکی ہیں جبکہ کچھ زیر علاج ہیں۔

وائس اف امر یکہ سے گفتگو کرتے ہوئے نر سز ایکشن کمیٹی کی راہنما مینا کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے باوجود نر سیں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن اپنی سلامتی کے بارے میں ہمیشہ فکر مند اور پر یشان رہتی ہیں۔

دور دراز علاقوں میں کام کرنے و الی نرسوں کی حفاظت اور رہائش کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے کو ئی انتظام نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خطرناک بیماریوں میں مبتلا مر یضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نر سوں کو بھی ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے والی بیماریوں کے حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر تشویش ہے۔

مینا نے کہا کہ ہمارے اسپتال میں کانگو وائرس، یرقان، ٹی بی یا کالی کھانسی کے مر یض آتے ہیں، جنہیں سب سے پہلے نرسیں طبی امداد فراہم کر تی ہیں۔ جراثیم اور وائرس لگنے سے ہماری کئی نرسیں خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکی ہیں ۔ ہماری ایک نرس کو ہپاٹائٹس کا انجکش لگاتے ہوئے وائرس لگنے سے یرقان میں مبتلا ہوگئی لیکن اسپتال میں یرقان سے بچاؤ کا ٹیکہ ہی موجود نہیں تھا۔ جو ہمیں چندہ کرکے لانا پڑا۔ اسی طرح ایک نر س فاطمه جنا ح سینٹر میں ٹی بی لگنے سے ہلاک ہوگئی۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کو ئٹہ میں چار اور ضلعی مر اکز میں 27 سرکاری اسپتال ہیں۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں تقر یباً 35 سو ڈاکٹر، 15 سو نرسیں اور دیگر عملے کی تعداد 34 سو ہے۔ صوبے میں کام کر نے والی 80 فیصد خواتین نرسوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔

نر س مینا کا کہنا ہے کہ مر یضوں کی تیمارداری کرنے والی مرد وخواتین نر سوں کی صحت کا کو ئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔ حکو مت نے انہیں خطرناک بیماریاں منتقل ہونے سے بچانے کا حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا۔

نرسوں کی تنظیم کی عہدے دار نے حکومت سے اپیل کی کہ اسپتالوں میں نرسوں کے لیے ایک خصوصي مر کز قائم کیا جائے جہاں ضروری سازو سامان، آلات اور ادویات موجود ہوں۔

صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نرسوں کے تمام مطالبات تسلیم کر تی ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کے دور دراز اضلاع میں مر یضوں کو گھر کے قر یب طبی سہولتیں فراہم کر نے کے لئے فوج کے تحت کوئٹہ میں ایک نیا میڈ یکل کالج، نر سنگ اسکول اور کالج بھی قا ئم کر دیا گیا ہے جہاں 160 طلبا اور طالبات کو نر سنگ کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

رقبے کے لحاظ سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی سرحدیں ہمسایہ اسلامی ممالک افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں ۔ افغانستان میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے، جبکہ ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اکثر اوقات مہلک امراض میں مبتلا مریض بلوچستان لائے جاتے ہیں۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG