رسائی کے لنکس

امریکہ اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات میں بلوچستان اہم کیوں؟


امریکہ اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات میں بلوچستان اہم کیوں؟

امریکہ اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات میں بلوچستان اہم کیوں؟

امریکہ اور پاکستان کے پیچ در پیچ تعلقات کے درمیان ایک ایسا موضوع بھی ان دنوں واشنگٹن کی توجہ حاصل کر رہا ہے جو پاکستانی ماہرین کے مطابق ان کے ملک کے اندرونی استحکام کا معاملہ ہے اور جس کا بظاہر امریکہ اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ مگر واشنگٹن کےبعض ماہرین اسے امریکہ کے سٹریٹیجک مفادات کے لئے اہم قرار دے رہے ہیں ۔ یہ موضوع ہے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ۔۔۔۔ واشنگٹن کی بلوچستان میں دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟ پاکستان اپنے ملک کے اس صوبے کی صورتحال کو کیسے سنبھالا دے سکتا ہے؟ ۔۔ وائس آف امریکہ نے ماہرین سے اسی حوالے سے بات کی ہے۔۔

کوئٹہ سے گوادر ،اور دالبندین سے سوئی تک ۔۔۔۔۔پاکستان کے تینتالیس فیصد زمینی رقبے کا حامل صوبہ بلوچستان جس کی حدود پاکستان کے دو پڑوسی ملکوں ایران اور افغانستان کے اندر تک پھیلی ہوئی ہیں ۔۔۔جو گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے خطے کے کئی ملکوں کی تجارتی راہداری بھی بن سکتا ہے ۔۔جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صوبہ اپنے سنگلاخ پہاڑوں میں موجود ۔۔۔۔۔ معدنی ذخائر کی مدد سے اپنی ہی نہیں ، باقی پاکستان کی اقتصادی قسمت بھی بدل سکتا ہے ۔۔۔مگر معاشی پسماندگی ، تعلیمی مواقعوں کی کمی ، امن و امان کی صورتحال اور قبائلی یا سرداری نظام حکومت کو اس صوبے کی ترقی کے راستے کی بڑی رکاوٹ قرار دیا جاتا ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات میں بلوچستان اہم کیوں؟

امریکہ اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات میں بلوچستان اہم کیوں؟

برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس سے منسلک بیرسٹر شہزادی بیگ بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے خودکئی بار بلوچستان کا دورہ کر چکی ہیں، اور کہتی ہیں کہ غربت ، پسماندگی ، اور امن و امان کی مخدوش صورتحال بلوچستان کے اہم مسئلے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر وسائل خرچ نہیں کئے گئے اور اس کی زمہ داری بہت حد تک صوبے میں رائج سرداری نظام پر عائد ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے علاقہ شدید پسماندگی کا شکار رہا اور دوسرے مشرف حکومت کے دور میں دو ہزار تین اور دوہزار آٹھ کے دوران پولیس کو قانون نافذ کرنے کی زمہ داری سونپی گئی تھی ، یہ صورتحال اب تبدیل کر دی گئی ہے ۔ اب لیویز کا نظام دوبارہ واپس لایا گیا ہے ، جو ایک ایسا نظام نہیں ہے جو کسی جدید ریاست کی ضرورت پوری کر سکے۔۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران بلوچستان میں نوے صحافی سیاسی کارکن وکلاء اور اساتذہ قتل ہو ئے ہیں ۔ سال دو ہزار دس کے لئے امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ انسانی حقوق کی رپورٹ میں بھی بلوچستان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے ۔

پاکستان کے امور پر نظر رکھنے والے امریکی ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کے لئے بلوچستان کی اہمیت کی کئی وجوہات ہیں ۔۔۔مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک امریکی اسکالر مارون وائن بام کہتے ہیں کہ جب تک افغانستان میں جنگ جاری ہے ، امریکہ کی بلوچستان میں دلچسپی اسٹریٹیجک نوعیت کی ہے ۔ اسی صوبے سے ایک بڑی تعداد میں افغان شرپسند افغانستان کے جنوبی صوبے میں جاتے ہیں ۔ یہ ہی وہ جگہ ہے جو امریکہ کے لئے افغانستان میں درد سر کی وجہ بنی ہوئی ہے ۔

امریکہ کے پاکستان میں سابق سفیر بل مائیلم کہتے ہیں کہ امریکہ کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے ، لیکن امریکہ کے اسٹریٹیجک مفاد کے لحاظ سے بلوچستان صرف اس لئے اہم ہے کہ یہ ایران کے ساتھ واقع ہے ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل نکالا جاناضروری ہے ۔

شہزادی بیگ بلوچستان میں علیحدگی پسند ی کے فروغ میں بیرونی طاقتوں کے کردار کو خطرناک قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ہیں ۔ اگر بلوچستان غیر مستحکم رہتا ہے تو بہت مشکل ہو جائے گا کہ افغانستان میں بھی استحکام آئے ۔ ان کے خیال میں عالمی برادری کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امن و امان اور بلوچستان کے اندرونی مسائل کا کئی بیرونی عناصر کے کردار سے گہرا تعلق ہے

پاکستانی صحافی اور دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر بلوچستان کی صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے استحکام کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جس چیز کا خدشہ ہمیں ہے وہ یہ کہ کیا ریاست اپنی حاکمیت مختلف علاقوں میں قائم رکھ سکتی ہے ۔ صرف بلوچستان میں ہی نہیں ، سندھ اور پنجاب میں بھی بہت سے لوگ ریاست کے رویے سے مطمئن نہیں ہے ۔ اس لئے ایک ایسےسیاسی عمل کی ضرورت ہے ،جس سے ریاست اپنی جائز حیثیت منوا سکے ۔ایسا سیاسی عمل جس میں ہر ایکٹر کے اسٹیکس ہوں ۔

حکومت پاکستان نے دو سال پہلے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بلوچ رہنماوں سے مذاکرات کرنے ، سیاسی ہلاکتوں کی تحقیقات ، بلوچستان میں مزید فوجی چھاؤنیوں کا قیام روکنے ، مخصوص علاقوں سے فوج واپس بلانے اور صوبے کے وسائل پر زیادہ اختیار دے کر صوبے کا احساس محرومی ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ لیکن بعض بلوچ قوم پرست حلقے اس پیکیج کو مصنوعی اور صوبے کے حالات کواس سے کہیں زیادہ پیچیدہ قرار دیتے رہے ہیں ۔

اعجاز حیدر کہتے ہیں کہ پاکستان کی وفاقی حکومت کے تعلقات بلوچستان حکومت سے عمومی طور پر کشیدہ رہے ہیں ۔جس کی کئی وجوہات ہیں ۔ یعنی مسائل تو ہیں ، اور اس سوال کا کوئی سادہ جواب بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ معاملہ کیسے حل ہوگا ۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ جب ہم سیاسی عمل کو جاری رکھتے ہیں تو اس کے اپنے بھی مثبت اثرات ہوتے ہیں ۔ پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوتی ہے ۔ نئے لوگ بھی آتے ہیں اور عوام کی شرکت بھی بڑھتی ہے ۔ اور یہی سیاسی ارتقاء کا واحد طریقہ ہے ۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گزشتہ ہفتے بلوچستان کے شہر سوئی سے آئندہ دو ماہ میں فوج واپس بلانے اور ان کی جگہ فرنٹئیر کور کے دستوں کو علاقے میں امن و امان کی زمہ داریاں سونپنے کا اعلان کیا ہے مگر بعض بلوچ حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے باشندوں کو اصل شکایات فرنٹئیر کور اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں سے ہی ہے اور اگر انہیں دور نہ کیا گیا تو فوج کے انخلاء کے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی ۔

XS
SM
MD
LG