رسائی کے لنکس

بلوچستان: تشدد کے واقعات میں 3 ہلاک، 22 زخمی

  • ستار کاکڑ

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نےخاران ما ڈل اسکول کے پرنسپل مظفر جمالی کی گاڑی پر گھات لگا کرخود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی

بلوچستان میں ہفتہ کومشتبہ باغی تنظیموں کےحملوں میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل سمیت کم ازکم تین افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔

مقامی پولیس افسران نے بتایا کہ پہلا واقعہ ضلع خاران کے مضافات میں صبح کے وقت پیش آیا جب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نےخاران ماڈل اسکول کے پرنسپل مظفر جمالی کی گاڑی پر گھات لگا کرخود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

مقتول مظفرجمالی کو شدید زخمی حالت میں خاران سے کوئٹہ میں سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں شام کو انہوں نے دم توڑ دیا۔

خاران پولیس انسپکٹر گُل محمد نے ’وائس اف امر یکہ‘ کو بتایا کہ اس حملے میں ان کے ساتھ سفر کرنے والےرشتہ داروں میں ایک طالب علم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ دو طالبات سمیت تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

اسپتال ذرائع نے زخمیوں کی حالت بھی تشویشنا ک بتائی ہے۔ پولیس نے اس حملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور دو مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

مظفر جمالی کا تعلق بلوچستان کے مشرقی ضلع جعفرآباد سے تھا۔ تاہم، درس تدریس کے سلسلے میں وہ خاران میں مقیم تھے۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ مظفر جمالی کو بعض کالعدم عسکری تنظیموں کی طرف دھمکیاں بھی ملی تھیں ۔

بلوچستان میں باغی تنظیموں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران درس وتدریس کے شعبے سےمنسلک درجنوں افراد پر مہلک حملے کیے ہیں جس کے باعث کئی اساتذہ صوبے سے ملک کے دیگر حصوں کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں۔

دریں اثنا، ہفتہ کی شب کوئٹہ کےدو مختلف مقامات پرکیے گئے راکٹ حملوں میں پولیس نے کم ازکم ایک شخص کی ہلاکت اورڈیڑھ درجن سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

پہلا راکٹ شہر کے مرکزی حصے میں قندھاری بازار میں جوتوں کی ایک دکان پر لگا جو ایک چودہ سالہ لڑکے کی فوری ہلاکت کا باعث بنا جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

اس حملے کےچند منٹ بعد ایک دوسرا راکٹ شہر کی کرسچن کالونی پرگرا جس میں حکام نے دو خواتین سمیت پندرہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

خاران میں پرنسپل پر قاتلانہ حملے اور کوئٹہ میں راکٹ حملوں کی ذمہ داری کسی نےقبول نہیں کی۔ تاہم، صوبائی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں علیحدگی پسند کالعدم بلوچ تنظیمیں ملوث ہوسکتی ہیں۔ ۔

XS
SM
MD
LG