رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: حکمران جماعت کے سابق رہنما کو سزائے موت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

64 سالہ مبارک حسین کو قتل، اغواء اور تشدد کے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ وہ حکمران جماعت عوامی لیگ کے ایک مقامی رہنما تھے جنہیں 2011ء میں جماعت سے نکال دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پیر کو حکمران جماعت کے ایک سابق رہنما کو 1971ء کی ’’آزادی کی جنگ‘‘ کے دوران قتل اور دیگر جرائم کے ارتکاب پر سزائے موت سنائی ہے۔

64 سالہ مبارک حسین کو قتل، اغواء اور تشدد کے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ وہ حکمران جماعت عوامی لیگ کے ایک مقامی رہنما تھے جنہیں 2011ء میں جماعت سے نکال دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم حسینہ واجد نے 2010ء میں 1971ء کی ’جنگ آزادی‘ سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی ٹریبونل قائم کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں حزب مخالف کی جماعتوں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس ٹریبونل کا مقصد سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا ہے لیکن حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

پیر کو سنائے جانے والے فیصلے میں پہلی بار حکمران جماعت کے سابق رہنما کو 1971ء کی" آزادی کی جنگ " سے متعلق جرائم پر سزائے موت دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کی کارروائی کے دوران انصاف سے متعلق بین الاقوامی معیار کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

گزشتہ سال دسمبر میں جماعت اسلامی کے ایک اعلیٰ رہنما کو پھانسی دی گئی تھی اور رواں ماہ بھی سپریم کورٹ نے جماعت کے ایک رہنما کو دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

اس سے قبل خصوصی ٹریبونل نے 1971ء کے جنگی جرائم سے متعلق متعدد افراد کو سزائے موت دی چکی ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔

XS
SM
MD
LG