رسائی کے لنکس

اس فہرست میں ان ملکوں کے نام شامل ہیں جن میں سزا سے استثنیٰ کا رجحان پایا جاتا ہے۔ بلاگ مصنفوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ درجہ بندی ملک میں ’’سزا سے استثنیٰ‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کا نام بھی صحافیوں کے حقوق کی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی جانب سے شائع کی گئی ’2015 گلوبل امپیونیٹی انڈیکس‘ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس فہرست میں ان ملکوں کے نام شامل ہیں جن میں سزا سے استثنیٰ کا رجحان پایا جاتا ہے۔

بلاگ مصنفوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ درجہ بندی خصوصاً اس سال چار سیکولر بلاگ مصنفوں کے قتل کے بعد ملک میں ’’سزا سے استثنیٰ‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

نیویارک میں قائم تنظیم کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی گلوبل انڈیکس میں 14 ملکوں کے نام شامل ہیں جن میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران کم از کم پانچ صحافیوں کے قتل کا معمہ حل نہیں کیا جا سکا۔

صومالیہ گلوبل انڈیکس میں سرفہرست ہیں، جس کے بعد عراق، شام اور فلپائن کے نام ہیں۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش کا بارہواں نمبر ہے جبکہ پاکستان کا نام نویں نمبر پر ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا پروگرام کے ریسرچ ایسوسی ایٹ سُمیت ملہوترا نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کا نام 2011 کے بعد سے پہلی مرتبہ اس فہرست میں آیا ہے کیونکہ ملک کی حکومت گزشتہ ایک سال کے دوران بلاگر اور صحافیوں پر حملے روکنے یا ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہی یا آمادہ نہیں ہے۔

’’بلاگ مصنفوں کا قتل صرف ایک سبب نہیں جس کی وجہ سے بنگلہ دیش یہاں پہنچا ہے۔ اخباروں سمیت صحافت کے روایتی اداروں میں کام کرنے والے والوں کو بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران سزا کے کسی خوف کے بغیر قتل کیا گیا۔ مگر بلاگ مصنفوں کے قتل نے بنگلہ دیش کے اس فہرست میں شامل ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘

بنگلہ دیشی بلاگ مصنف ابراہیم خلیل سبق نے کہا کہ اب تک بلاگ مصنفوں کے قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

XS
SM
MD
LG