رسائی کے لنکس

امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ منہدم ہونے والے گارمنٹس فیکٹری کی عمارت کی سیڑھیوں اور اس کے پاس سے بڑی تعداد میں لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

بنگلہ دیش میں منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت کے ملبے سے تقریباً دو ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ایک خاتون کو زندہ نکال لیا گیا جب کہ حکام کے مطابق اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کی سیڑھیوں اور اس کے پاس سے بڑی تعداد میں لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

’’جیسے ہی ہم ملبے کا کوئی حصہ ہٹاتے ہیں اور وہاں لاشوں کا ڈھیر کا ملتا ہے۔‘‘

24 اپریل کو ڈھاکا کے قریب واقع یہ عمارت یک لخت زمین بوس ہوگئی تھی۔ یہاں ملبوسات کی فیکٹریاں قائم تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کی بالائی منزلوں پر رکھے گئے جینیریٹرز بھی اس کے گرنے کی ممکنہ وجہ ہو سکتے ہیں کیونکہ شاید عمارت کا ڈھانچہ تیاری کے وقت ایسی بھاری مشینیوں کو سہارنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا گیا تھا۔

پولیس عمارت کے مالک، انجینیئرز اور یہاں قائم گارمنٹس فیکٹریوں کے مالکان سمیت نو افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے اس واقعے کے بعد ملک میں 18 گارمنٹس فیکٹریوں کو حفاظتی بنیادوں پر بند کر چکی ہے۔

عمارت کے انہدام کے وقت یہاں لگ بھگ تین ہزار لوگ موجود تھے۔
XS
SM
MD
LG