رسائی کے لنکس

جمعہ کو ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 44 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش میں پولیس اور جماعت اسلامی کے مشتعل مظاہرین میں جھڑپوں سے ایک اور شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

ملک میں جنگی جرائم کی خصوصی ٹربیونل کی طرف سے جماعت اسلامی کے ایک سینیئر رہنماء دلاور حسین سیدی کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد سے ملک میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

ہفتہ کو ہونے والی ہلاکت چٹاکانگ شہر میں جھڑپوں کے دوران ہوئی۔

جمعہ کو ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 44 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دلاور حسین کو 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل عام اور اجتماعی جنسی زیادتی سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن جماعت اسلامی کے رہنما نے اس فیصلے کو نا انصافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دلاور حسین سیدی جماعت اسلامی کے تیسرے رہنماء ہیں جنہیں 2010ء میں قائم کیے جانے والے جنگی جرائم کے ٹربیونل کی طرف سے سزا سنائی گئی۔

رواں سال جنوری میں ابوالکلام آزاد کو اُن کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی جب کہ فروری کے آغاز میں عبدالقادر مولا کو جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

جماعت اسلامی کے تین دیگر رہنماؤں پر اب بھی مقدمہ چل رہا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG