رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ پر عسکریت پسندوں کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیانات پر نظر رکھنے والی تنظیم سائیٹ انٹیلی جنس گروپ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو بنگلہ دیش کے شمال میں ایک جاپانی شہری کو مسلح حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے داعش کے اس دعوے کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے جس میں اس شدت پسند گروپ نے دو روز قبل ایک غیر ملکی شہری کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

انٹرنیٹ پر عسکریت پسندوں کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیانات پر نظر رکھنے والی تنظیم سائیٹ انٹیلی جنس گروپ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو بنگلہ دیش کے شمال میں ایک جاپانی شہری کو مسلح حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس سے قبل بھی داعش بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ایک اطالوی امدادی کارکن کے قتل کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسدالزمان نے اتوار کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس یعنی 'اے پی' کو بتایا کہ "یہ فضول بات ہے، ملک میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "داعش یہاں ایسا کیوں کرے گی۔ ان واقعات کا تعلق ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے سے ہے۔"

اسد الزمان نے کہا کہ "یہ دعوے مشکوک ہیں اور ہم اس کی جانچ کر رہے ہیں۔"

بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے بھی نامہ نگاروں سے گفتگو میں داعش کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی شخص بھی آن لائن کوئی بھی بات کر سکتا ہے۔ ہم اس کو کیوں مانیں جب تک کہ ہم اسے ثابت نہیں کر لیتے ہیں۔"

28 ستمبر کو ایک اطالوی امدادی کارکن سیزر تاویلا کو ڈھاکا میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس پر بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا تھا کہ یہ ایک "الگ تھلگ واقعہ" ہے اور اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ داعش اس میں ملوث ہیں۔

حسینہ واجد نے ان حملوں کی ذمہ داری ملک میں حزب مخالف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی 'بی این پی' اور اس کی اتحادی جماعت اسلامی پر عائد کرتے ہوئے ان پر ملک میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام لگایا۔

دوسری طرف 'بی این پی' کے ترجمان نے ایک بیان میں وزیر اعظم کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان (وزیر اعظم) سے اسی بات کی توقع تھی۔

دوسری طرف جاپان کی وزارت خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ٹوکیو میں کہا کہ داعش کے دعوے کے بعد وہ اس واقعہ کی تفتیش ایک ممکنہ دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت حالیہ مہینوں میں تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی ذمہ داری سخت گیر گروپ قبول کر رہے ہیں جن میں سے کئی ایک کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور رواں سال چار بلاگرز کے قتل کا الزام بھی انہیں پر عائد کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG