رسائی کے لنکس

گارمنٹ فیکٹری کے روپوش مالکان حکام کے حوالے


فائل

فائل

کپڑے سینے کے کاروبار سے بنگلہ دیش سالانہ 20 ارب ڈالر کماتا ہے، جو اُس کی برآمدات کا تقریباً 80 فی صد ہے

بنگلہ دیش کے پوشاک تیار کرنے والے کارخانے کے دو مالکان نے ایک سال سے زائد عرصہ روپوش رہنے کے بعد اپنی ضمانت کی درخواست کے ساتھ اہل کاروں کے روبرو پیش ہو گئے ہیں۔

کارخانے میں لگنے والی آگ کے واقع میں 110سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دونوں نے اپنے آپ کو اتوار کے روز ڈھاکہ میں باضابطہ طور پر حکام کے حوالے کیا۔

وہ اُن 13 اشخاص میں شامل ہیں جن پر نومبر 2012ء کی آتش زدگی کا الزام ہے۔

’تزرین فیشنز‘ نام کی یہ ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹری نامور امریکی اور یورپی برانڈز کے لیے کپڑے سینے کا کام کیا کرتی تھی، جن میں ’والمارٹ‘ اور ’ڈِزنی‘ شامل ہیں۔

اہل کاروں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت کارخانے میں آگ سے محفوظ رہنے سے متعلق قانونی طور پر درست لائسنز موجود نہیں تھا، اور بھاری اموات کا باعث عمارت میں ہنگامی دروازوں کی عدم موجودگی تھا۔

کپڑے سینے کے کاروبار سے بنگلہ دیش سالانہ 20 ارب ڈالر کماتا ہے، جو اُس کی برآمدات کا تقریباً 80 فی صد ہے۔
XS
SM
MD
LG