رسائی کے لنکس

گذشتہ سال کے اوائل میں ہائی کورٹ نے مفتی عبدالحنان اور اُن کے دو پیروکاروں کی اپیلیں مسترد کردی تھیں، جو ممنوعہ حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ تھے۔ تینوں پر انور چودھری پر حملہ کرنے کا قصور ثابت ہوگیا تھا، جو اُس وقت بنگلہ دیش میں برطانیہ کے ہائی کمشنر تھے

بنگلہ دیش نے بدھ کے روز تین اسلامی شدت پسندوں کو پھانسی کی سزا دے دی، جنھیں 2014ء کے دستی بم حملے میں قصور وار پایا گیا تھا، جس میں برطانیہ کے ایک سفارت کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

گذشتہ سال کے اوائل میں ہائی کورٹ نے مفتی عبدالحنان اور اُن کے دو پیروکاروں کی اپیلیں مسترد کردی تھیں، جو ممنوعہ حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ تھے۔

تینوں پر انور چودھری پر حملہ کرنے کا قصور ثابت ہوگیا تھا، جو اُس وقت بنگلہ دیش میں برطانیہ کے ہائی کمشنر تھے۔

حملے میں چودھری بال بال بچے تھے، جو اُس وقت ہوا جب وہ ملک کے شمال مشرقی شہر، سلہٹ میں واقع ایک صوفی بزرگ کے مزار کا دورہ کر رہے تھے۔

اس واقعے میں مزار پر موجود تین نمازی ہلاک ہوگئے تھے۔

سنہ 2008ء میں تین افراد کے قتل اور حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں اُنھیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ دو دیگر شدت پسندوں کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG