رسائی کے لنکس

ڈھاکہ میں حملے کے بعد بنگلہ دیش میں سوگ


جاپان کے سفیر مساتو وتانابے دعائیہ تقریب میں مرنے والوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

جاپان کے سفیر مساتو وتانابے دعائیہ تقریب میں مرنے والوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

مرنے والوں میں نو اطالوی، سات جاپانی، دو بنگلہ دیشی، ایک بھارتی اور ایک امریکی شہری شامل ہیں۔ اس مہلک حملے کے بعد ملک میں دو روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ڈھاکہ میں ریستوران پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے 20 یرغمالیوں اور دو پولیس اہلکاروں کے لیے پیر کو منعقدہ ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

دعائیہ تقریب میں بھارت، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے سفیر ہلاک ہونے والوں کی نمائندگی کے لیے موجود تھے۔ وزیراعظم حسینہ نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے خطاب بھی کیا۔

مرنے والوں میں نو اطالوی، سات جاپانی، دو بنگلہ دیشی، ایک بھارتی اور ایک امریکی شہری شامل ہیں۔ مرنے والے تین بنگلہ دیشی نژاد افراد امریکہ کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم تھے۔

اس مہلک حملے کے بعد ملک میں دو روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا اور یہ تقریب دوسرے روز منعقد کی گئی۔

شدت پسند تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر اس واقعے کا داعش سے کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا جبکہ سرکاری عہدیداروں نے داعش کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزماں خان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ داعش نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے تاہم ساتوں حملہ آوروں کا داعش سے کوئی براہ راست تعلق ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ ان میں سے چھ حملہ آور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔

تاہم وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ شدت پسند گروہ ’جماعت المجاہدین بنگلہ دیش‘کے رکن تھے جس پر ملک میں پچھلے دس سال سے زائد عرصہ سے پابندی عائد ہے۔

قومی پولیس کے سربراہ شاہد الحق نے کہا کہ حکام اس بات کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا حسینہ کو ٹیلی فون

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے وزیراعظم حسینہ کو اتوار کو ٹیلی فون کر کے حملے پر تعزیت کا اظہار کیا۔

محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جان کیری نے بنگلہ دیشی حکومت کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ عالمی معیار کے مطابق اس حملے کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے تحقیقات کے لیے امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ سمیت امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی پیشکش بھی کی۔

بنگلہ دیش کی پولیس نے ان چھ حملہ آوروں کی تصاویر اور پہلے نام جاری کیے ہیں جو محاصرے کے دوران مارے گئے۔ پولیس کے مطابق وہ کئی ماہ سے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں نہیں تھے۔

بنگلہ دیش کی حکومت طویل عرصہ سے کہتی رہی ہے کہ داعش ملک میں موجود نہیں۔ وزیراعظم حسینہ کی حکومت نے ملک میں ہونے والے متعدد حملوں کا الزام اپنے سیاسی حریفوں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے شدت پسند گروہوں کی معاونت کر رہے ہیں۔

محاصرے کے شروع میں ہی دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے 13 یرغمالیوں کو بازیاب کروا لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

یہ حملہ جمعے کی شام ہولی آرٹیزن بیکری نامی ریستوران میں ہوا جو سفارتی علاقے میں واقع ہے۔

کئی گھنٹوں کے محاصرے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ریستوران کی عمارت میں داخل ہو کر چھ حملہ آوروں کو ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کو تیز دھار آلے سے وار کر کے ہلاک کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG