رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: داعش و شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے فتویٰ کی تیاری


داعش کا ایک کارندہ موصل میں لوگوں میں قرآن کے نسخے تقسیم کر رہا ہے

داعش کا ایک کارندہ موصل میں لوگوں میں قرآن کے نسخے تقسیم کر رہا ہے

مولانا فرید الدین کے بقول ہزاروں مساجد کے مولوی حضرات کو تربیت بھی فراہم کر رہی ہے جس کا مقصد "مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مہم کو نچلی سطح تک پہنچانے کی کوشش ہے۔"

بنگلہ دیش میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے مذہبی رہنما ایک فتویٰ تیار کر رہے ہیں جس کے مطابق شدت پسند گروپ داعش اور دیگر مقامی انتہا پسند گروپوں کی کارروائیوں کو "غیر اسلامی" قرار دیا جا رہا ہے۔

ملک میں مذہبی دانشوروں کی قومی تنظیم بنگلہ دیش جمعیت العلما (بی جے یو) کے چیئرمین مولانا فرید الدین مسعود کہتے ہیں کہ "اس فتوے کی توثیق مشترکہ طور پر مل کے ایک لاکھ مذہبی دانشور کریں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ داعش اور اس کے مقامی حامی، جو لوگوں کو قتل کرے رہے ہیں اور بنگلہ دیش یا کہیں اور دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہو رہے ہیں، نہ صرف اسلام کے دشمن ہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی دشمن ہیں۔"

’بی جے یو‘ نے اس فتوے کے لیے ملک بھر کے علما کو متحرک کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مولانا فرید الدین کے بقول ہزاروں مساجد کے مولوی حضرات کو تربیت بھی فراہم کر رہی ہے جس کا مقصد "مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مہم کو نچلی سطح تک پہنچانے کی کوشش ہے۔"

انھوں نے کہا کہ "یہ (علما) اپنے خطبوں میں تفصیلاً بیان کریں گے کہ کس طرح داعش اور دیگر مذہبی انتہا پسند دہشت گردی کا سہارا لے کر قرآن اور حدیث کے اصولوں کے منافی کام کر رہے ہیں۔"

’بی جے یو‘ کے رہنما اور پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ڈھاکا میں ملاقات بھی کی جس میں انسپکٹر جنرل اے کے ایم شاہد الحق نے داعش اور دیگر گروپوں کے خلاف تنظیم کے منصوبوں کی منظور کیا جس میں فتویٰ جاری کرنا اور مساجد سے اس مہم کو شروع کرنا بھی شامل ہے۔

شاہدالحق نے کہا کہ "بعض گروپ اسلام کی تعلیمات کی غلط تشریح کر رہے ہیں اور ملک میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔۔۔ہمیں امید ہے کہ ہمارے مذہبی لوگ اس خصوصی مہم کے ذریعے اس کا مقابلہ کر سکیں گے۔"

بنگلہ دیش میں رواں سال مذہبی انتہا پسندی کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جو کہ حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنے اور انھوں نے اس سے نمٹنے کے لیے مذہبی رہنماؤں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔

اسی سال متعدد آزاد خیال بلاگرز اور ایک ناشر کے علاوہ دو غیر ملکی شہریوں کے قتل کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

اکتوبر میں شیعہ برادری کے ایک اجتماع پر بم حملہ بھی ہوا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ گزشتہ ماہ نامعلوم مسلح افراد نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ایک مسجد کے موذن کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

حالیہ ہفتوں میں تیس کے لگ بھگ مسیحی مبلغوں اور ان کے کارکنوں کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔

ان واقعات کی ذمہ داری داعش اور مقامی انتہا پسند گروپ انصار الاسلام بنگلہ ٹیم اور جماعت المجاہدین بنگلہ دیش نے قبول کی تھیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ہی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ایک امریکی وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔ ان کی حکومت مقامی مذہبی انتہا پسند جنہیں مبینہ طور پر حزب مخالف کی حمایت حاصل ہے، ان واقعات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

XS
SM
MD
LG