رسائی کے لنکس

ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے مقدمے کا آغاز

  • پرویز حفیظ

ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے مقدمے کا آغاز

ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے مقدمے کا آغاز

ایک خصوصی عدالت نے منگل کو ڈھاکہ میں ایک سال قبل بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے صدر دفتر میں سرحدی محافظوں کی طرف سے ہونے والی خونی بغاوت کے مقدمے کی سماعت کا آغازکیا۔

خصوصی ٹربیونل کی سربراہی بی ڈی آر کے ڈائریکٹر جنرل معین الاسلام کر رہے ہیں۔ ججوں کے پینل میں دو فوجی عہدے دار لیفٹیننٹ کرنل غلام ربانی اور میجر سعید حسن بھی شامل ہیں۔ اُن کو قانونی مشورہ دینے کے لیے بنگلہ دیش کے اٹارنی جنرل نے ایک قانونی مشیر بھی مقرر کیا ہے۔ عدالت کے سامنےصوبیدار میجر شاہ عالم نے 86ملزموں کی فہرست پیش کی۔

بنیادی طور پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ قتل و غارت گری، عصمت دری اور دیگر الزامات کے مقدمے شہری عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔ اُن 86ملزمین میں سے 40کے خلاف الزام ہے کہ اُنھوں نے دو روزہ بغاوت کے پہلے دِن اپنے اعلیٰ عہدے داروں پر بندوقین تان لیں تھیں جب کہ دیگر 46ملزمین پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے مزاحمت نہیں کی، بلکہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ اُن 86میں سے 65ملزمین بی ڈی آر کے صدر دفتر میں زیرِ حراست ہیں ، 19مختلف جیلوں میں بند ہیں، جب کہ، دو ملزم فرار ہیں۔

پچھلے سال 25فروری کو، بی ڈی آر جوانوں کے ذریعے کی گئی بغاوت میں 74لوگ مارے گئے تھے جِن میں 57اعلیٰ فوجی افسر تھے۔ شیخ حسینہ کی قیادت میں تشکیل دی گئی اُس وقت کی نومولود حکومت اِس بغاوت سے ہِل گئی تھی۔

بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم نے بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ بغاوت ملک میں جمہوریت کی بیخ کُنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG