رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: خالدہ ضیا کی بدعنوانی کے مقدمات میں ضمانت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خالدہ ضیا کے وکلاء کے مطابق وہ سخت سکیورٹی میں ڈھاکہ کی ایک انسداد بدعنوانی کی عدالت میں ضمانت کی درخواست کے لیے پیش ہوئیں تھیں۔ ایک ماہ قبل ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔

اتوار کو بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور حزب مخالف کی اہم رہنما خالدہ ضیا کو ایک خصوصی عدالت نے بدعنوانی کے دو مقدمات میں ضمانت دے دی ہے۔

خالدہ ضیا اتوار کو عدالت میں پیش ہوئیں تھیں جسے بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی میں کمی کے امکان کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

خالدہ ضیا کے وکلاء کے مطابق وہ سخت سکیورٹی میں ڈھاکہ کی ایک انسداد بدعنوانی کی عدالت میں ضمانت کی درخواست کے لیے پیش ہوئیں تھیں۔ ایک ماہ قبل ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔

خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اس سال وزیرِ اعظم حسینہ واجد کو حکومت سے دستبردار ہو کر ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت انتخابات کرانے پر مجبور کرنے کے لیے احتجاجی مظاہروں میں اضافہ کر دیا تھا۔

حسینہ واجد 2014 کے متنازعہ انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں۔

بی این پی نے 2014 کے عام انتخابات میں اس لیے حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس کے مطابق انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

خالدہ ضیا کے وکیل ثناءاللہ میاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ گزشتہ سماعتوں پر خراب صحت یا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیش نہیں ہو سکیں تھیں۔ ان کی عدالت میں اگلی پیشی 5 مئی کو ہے۔

انہتر سالہ سابق وزیرِ اعظم ڈھاکہ میں سفارتی انکلیو میں واقع اپنے دفتر میں پانچ جنوری سے رہائش اختتار کیے ہوئے ہیں، انہیں متنازعہ انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے پر اسی دفتر سے شروع ہونے والی عوامی ریلی سے روک دیا گیا تھا۔

خالدہ ضیا کی پیشی کے موقع پر ان کے درجنوں حامیوں نے نعرے بازی کی جنہیں انہوں نے ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔

حکومت کو گرانے کے لیے اپوزیشن کے مظاہروں اور ٹریفک کے لیے راستے بند کرنے کے دوران سیاسی تشدد میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خالدہ ضیا پر 2001ء سے 2006ء تک اپنے دورِ حکومت میں بد عنوانی کے دو کیسوں میں چھ لاکھ پچاس ہزار ڈالر خورد برد کرنے کا الزام ہے۔ خالدہ ضیا اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں نے ان الزامات کی یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ ان مقدمات کے محرکات سیاسی ہیں۔ خالدہ ضیا پر تشدد پر اکسانے کا الزام بھی ہے۔

بنگلہ دیش میں کئی سالوں سے حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کے درمیان سیاسی رسہ کشی جاری ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر وہ یکے بعد دیگرے فائز رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG