رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے رہنماؤں کی حراست کے بعد ہفتہ کو ملک بھر میں 84 گھنٹوں کے لیے مزید ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش میں پولیس نے ہفتہ کو حزب مخالف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ’بی این پی‘ کی رہنما بیگم خالدہ ضیاء کے مشیر اور معاون خصوصی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے ان افراد کے گھروں پر چھاپے مارنے کے بعد اُنھیں حراست میں لیا۔

ان گرفتاریوں کے بعد ’بی این پی‘ کے حامیوں نے ڈھاکہ-چٹا گانگ ہائی وئے پر رکاوٹیں کھڑی کر کے اس مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے رہنماؤں کی حراست کے بعد ہفتہ کو ملک بھر میں 84 گھنٹوں کے لیے مزید ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

اس ہڑتال کا مقصد حکمران عوامی لیگ پر زور ڈالنا ہے کہ وہ انتخابات بر وقت کرائے۔

بنگلہ دیش میں غیر جانبدار عبوری حکومت کی نگرانی میں انتخابات آئند سال جنوری میں ہونا ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے یہ پیشکش کی ہے اُن کے ہوتے ہوئے تمام جماعتوں پر مشتمل ایک عبوری حکومت بنائی جائے جس کی نگرانی میں انتخابات ہوں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر ’ڈیڈ لاک‘ نیا نہیں۔ اس معاملے پر کشیدگی اور پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی ملک کی گارمنٹس کی صنعت کے لیے خطرہ ہے، اس صنعت کے ذریعے بنگلہ دیش 22 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے۔
XS
SM
MD
LG