رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: اطالوی شہری کے قتل کے شبہے میں چار گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بنگلہ دیش نے مذہبی شدت پسندوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے پرتشدد کارروائیاں کر رہی ہیں۔

بنگلہ دیش میں پولیس نے گزشتہ ماہ ایک اطالوی امدادی کارکن کے قتل کے شبہے میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پیر کو پولیس نے کہا کہ مشتبہ حملہ آوروں نے اعتراف کیا ہے انہیں ’’سفید فام شخص‘‘ پر حملہ کر کے ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے کرائے پر حاصل کیا گیا۔

سیزر ٹویلا کو 28 ستمبر کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں جاگنگ کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ پانچ دن بعد، شمالی بنگلہ دیش میں ایک جاپانی شہری کو ایسے ہی ایک واقعے میں قتل کیا گیا۔

ان ہلاکتوں سے بنگلہ دیش میں مقیم غیر ملکیوں میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ حملوں سے بیرونی امداد اور درآمدی گارمنٹس صنعت پر بھاری انحصار کرنے والی ملکی معیشت بھی خطرے کا شکار ہوئی ہے۔

سیزر ٹویلا پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی مگر بنگلہ دیش کی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں داعش کے وجود کے کوئی شواہد نہیں۔

حکومت نے داعش کی طرف سے ایک جاپانی شہری اور محرم کے جلوس پر حملے کے دعووں کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ ہفتے کو محرم کے جلوس پر ہونے والے حملے میں ایک نوجوان ہلاک اور سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیش نے مذہبی شدت پسندوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے پرتشدد کارروائیاں کر رہی ہیں۔

پیر کو ڈھاکہ میں پولیس کمشنر اسد الزمان میاں نے کہا کہ تازہ ترین گرفتاریوں سے مقامی جماعتوں کے ملوث ہونے کے خیال کو تقویت ملتی ہے۔

اسد الزمان میاں کے مطابق مشتبہ افراد میں ایک معروف پیشہ ور قاتل بھی شامل ہے جسے حملے کے مقام پر بنائی جانے والے سی سی ٹی وی فوٹیج سے پہچانا گیا۔ مشتبہ قاتل نے مبینہ طور پر تحقیق کاروں کو بتایا کہ’’ایک بڑے بھائی‘‘ نے ٹویلا کو قتل کرکے ملک میں ’’انتشار پھیلانے‘‘ کے لیے اس کی خدمات حاصل کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG